خطبات محمود (جلد 17) — Page 206
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء طرح صحیح ہے یا نہیں مگر اس کے بعض حصوں کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے۔لکھا ہے کہ جب ان کی قوم پر سے عذاب ٹل گیا اور انہیں عذاب کی کوئی خبر نہ ملی بلکہ راہ گزروں سے یہ سنا کہ نینوا کے لوگ بالکل خیریت سے ہیں تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ عذاب نہ آنے کی وجہ سے اُن کی قوم ان کو جھوٹا کہے گی ملک کو چھوڑ کر کہیں چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ادھر ان کی قوم تو بہ کر چکی اور ان کی ھے آمد کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی کہ تا ان پر ایمان لاکر ان کے حکموں کے مطابق زندگی بسر کرے مگر حضرت یونس ان حالات سے بے خبر تھے۔پس وہ ملک چھوڑ دینے کے خیال سے وہاں سے چل پڑے اور ایک جہاز پر سوار ہو گئے تاکہ کہیں دور نکل جائیں مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وہ جہاز میں سوار تھے ایک شدید طوفان آیا اور لوگوں نے رائج الوقت خیالات کے مطابق سمجھا کہ کوئی غلام بھاگ کر جہاز میں سوار ہوا ہے جس کی وجہ سے طوفان آیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام نے اُن کی گفتگوسنی تو کہا کہ وہ غلام میں ہی ہوں جو اپنے آقا سے بھاگ آیا ہوں یعنی انہوں نے خیال کیا کہ میرے چلے آنے کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کیا ہے اور اس سبب سے یہ طوفان آیا ہے۔لوگوں نے ی ان کی بات کو قبول نہ کیا لیکن جب فیصلہ کرنے کیلئے قرعہ ڈالا تو انہی کا نام نکلا آخر لوگوں نے اُن کو دی سمندر میں پھینک دیا جہاں انہیں ایک بڑی مچھلی نگل گئی اور آپ تین دن اس کے پیٹ میں ر لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت کے ماتحت زندہ رہے۔تین دن کے بعد مچھلی نے آپ کو اگل دیا۔جس کے جگہ پر اس نے آپ کو اگلا تھا وہاں ایک بیل اُگ آئی یا پہلے سے اُگی ہوئی تھی اس کے سایہ میں آپ پناہ لے کر لیٹ گئے۔آپ مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے نہایت کمزور ہورہے تھے اس لئے کی نڈھال ہو کر سایہ میں پڑے رہے آپ کو طاقت آ رہی تھی کہ یکدم کیا دیکھتے ہیں کہ وہ بیل جس کے سایہ میں آپ لیٹے ہوئے تھے اسے ایک کیڑے نے کاٹ دیا ہے جس کی وجہ سے وہ خشک ہو کر گر گئی۔آپ کو اس کا بڑا صدمہ ہوا کیونکہ اس سے آپ کو بہت آرام ملا تھا اور آپ کے منہ سے بے اختیار بددعا نکلی کہ خدا اس کیڑے کو تباہ کرے جس نے اس بیل کو کاٹ دیا ہے مگر چونکہ یہ سب کچھ آپ کو سبق دینے کیلئے ہو رہا تھا اللہ تعالیٰ نے معاً آپ کو الہام کیا کہ اے یونس ! یہ بیل تیری لگائی ہوئی نہ تھی صرف تجھے اس سے عارضی تعلق پیدا ہوا تھا مگر اس کے کٹ جانے پر تجھے اس قدر رنج ہوا تو سوچ کہ جس قوم کی تباہی تو چاہتا تھا وہ تو میری پیدا کردہ تھی کیا اسے تباہ کرتے ہوئے مجھے رنج نہ