خطبات محمود (جلد 17) — Page 205
خطبات محمود ۲۰۵ سال ۱۹۳۶ء نے اُسے سمندر میں غرق کیا اور اس طرح بتا دیا کہ آسمان پر جانے والا تو کون ہے؟ میں تجھے زمین سے نیچے لے جا کر اپنی شکل دکھاتا ہوں۔مگر مؤمن جب زمین پر جھکتا ہے ، سجدہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کیا کروں جو آسمان پر نگاہ ڈالوں اور خدا کے حسین چہرے کو دیکھ سکوں جب وہ اپنے سر کو نیچے لے جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اُسے اوپر اُٹھاتا ہے۔فرعون او پر جا کر خدا تعالیٰ کو دیکھنا چاہتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے اسے تحت الٹڑی میں پہنچایا لیکن مؤمن نیچے جاتا اور تذلل اختیار کرتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے اوپر اٹھاتا ہے۔سورہ نور میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں مؤمن کے گھر کو اونچا کرتا ہی ہوں بلکہ اس کے طفیل اس کے خاندان کو بھی اوپر اُٹھاتا ہوں '۔اس کے بالمقابل جو بڑائی اور تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے نیچے گراتا ہے۔پس روحانی دنیا کے معاملات بالکل نرالے ہوتے ہیں تم یہ خیال مت کرو کہ روزہ معمولی چیز ہے ہماری لڑائی روحانی ہے اس لئے اس میں روحانی ہتھیار ہی کام آ سکتے ہیں۔جہاں لوہے کی تلواروں سے لڑائی ہو وہاں تو لوہے کی تلوار ہی کام آسکتی ہے مگر جب لڑائی روحانی ہو تو دل کو کاٹنے کیلئے روحانی تلوار کی ضررت ہوتی ہے اور روحانی تلوار کو تیز کرنے کیلئے پتھر کی سان کی ضرورت نہیں بلکہ روزہ کی سان کی ضرورت ہے۔اس عالم میں کوئی چیز جتنی موٹی ہو اتنی بھاری ہوتی ہے مگر روحانی عالم میں کوئی چیز جتنی باریک ہو اتنی ہی زیادہ وزنی ہوتی ہے۔اس دنیا میں موٹائی وزن بڑھاتی ہے مگر روحانی عالم میں باریکی وزن کو بڑھاتی ہے۔پس اس ہتھیار کو معمولی مت سمجھو اور ان کی دنوں کو غفلت میں مت گزرنے دو۔ہفتہ میں ہم ایک دن روزہ رکھیں گے اور سات دن دعائیں کریں گے دعائیں خواہ انفرادی طور پر کی جائیں خواہ جماعتیں مل کر دعا کرنے کا انتظام کریں یعنی کی ایک مقررہ وقت پر سب دوست جمع ہو کر دعا کریں۔اس کے متعلق میں ایک بات اور کہہ دینا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ کا طریق بندوں سے مختلف ہوتا ہے اس کا غضب بھی رحمت کے ساتھ مخلوط ہوتا ہے بندہ کو جب دوسرے پر غصہ آتا ہے تو و چاہتا ہے کہ اسے پیس ڈالے اور مٹا دے مگر خدا تعالیٰ کا غضب جب نازل ہو رہا ہو اس وقت بھی اُس کے مدنظر یہی ہوتا ہے کہ اگر ہو سکے تو بچایا جائے۔حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق روایات میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے جو معلوم نہیں پوری وہی