خطبات محمود (جلد 17) — Page 207
خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۶ء ہوتا ؟ پھر اگر ان کے تو بہ کرنے پر میں نے ان کو بخش دیا تو تجھے کیوں رنج ہوا۔اس قصہ کی تفصیلات میں خواہ کچھ غلطی ہو لیکن اس کے اکثر اجزاء کی قرآن کریم تصدیق کرتا ہے۔پس اس میں جو سبق نکلتا ہے وہ درست ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں بھی کی رحم ملا ہوا ہوتا ہے وہ خود بھی فرماتا ہے کہ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ہے میری رحمت ہر دوسری ھے پر غالب ہے۔گویا جس طرح کو نین پر میٹھا چڑھا دیا جاتا ہے تا آسانی سے کھائی جا سکے اس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب پر رحمت کی شکر چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔مومن کو بھی اللہ تعالیٰ کا طریق اختیار کرنا چاہئے یعنی اگر ہم کسی کے متعلق دعا کریں کہ وہ تباہ ہو جائے تو اس لئے نہیں کہ اس۔ہمیں تکلیف پہنچی ہے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم کے پھیلنے میں وہ روک بنتا ہے ذاتی عداوت کی ہرگز نہ ہونی چاہئے۔اگر ہم واقعہ میں اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں تو ہمارے اندر وہی صفات ہونی چاہئیں جو ہمارے رب میں ہیں۔بے شک ہمارے مخالفین میں عیوب ہیں مگر مؤمن کو ثواب زیادہ نظر آتا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ آپ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ رستہ میں گتا مرا ہوا پڑا تھا۔حواریوں نے ناکوں کے آگے رومال رکھ لئے ، تھوکنا شروع کر دیا اور کی کہنے لگے کہ مُردار سے کس قدر تعفن اُٹھ رہا ہے۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور فرمایا ای دیکھو! اس کے دانت کتنے سفید ہیں۔سود شمن اگر چہ ہماری مخالفت کرتا ہے مگر ہم اس کی مخالفت کے باوجود دو بلکہ تین پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ایک یہ کہ اکثر لوگ ایسے ہیں جو دیانتداری کے ماتحت یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے دین سے پھر گئے ہیں اس لئے وہ ہماری اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔گویا وہ ہماری مخالفت خیر خواہی سے متاثر ہو کر کرتے ہیں اس لئے ہم ان کی نیت کو نہیں بھلا سکتے۔اکثر لوگ غلطی خوردہ ہوتے ہیں وہ ہماری مخالفت کرتے وقت سمجھتے ہیں کہ دین کو قائم کر رہے ہیں اور وہ ہمیں مٹا کر اسلام کو کی قائم کرنا چاہتے ہیں۔اگر چہ وہ شرارت کرتے ہیں اور ہم ان کو غلطی پر سمجھتے ہیں مگر ان کے چی خیالات پر بھی نیکی کا غلبہ ہوتا ہے۔دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ انبیاء کے مخالفوں کے ذریعہ ان