خطبات محمود (جلد 17) — Page 81
خطبات محمود ΔΙ سال ۱۹۳۶ء ایسے ہوتے ہیں جو ماں باپ کے مقابلہ میں جرات سے کام نہیں لے سکتے۔ان کو حق کا علم بھی ہو جائے تو ناحق کو اس لئے نہ چھوڑیں گے کہ ماں باپ ناراض نہ ہو جائیں۔مجھے کئی ایسے لوگوں کا علم ہے جن پر احمدیت کی صداقت کھل چکی ہے مگر وہ اسے اس لئے کھلم کھلا قبول نہیں کرتے کہ ماں باپ ناراض ہو جائیں گے۔اُن سے جب کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں بندوں کا یا ماں باپ کا ڈریا محبت کیا چیز ہے؟ تو وہ کہیں گے یہ ٹھیک ہے مگر کیا کریں دل نہیں مانتا آپ اس کو ہماری کمزوری سمجھ لیں مگر ہم ایسا کر نہیں سکتے۔اور اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ان کے اندر جرات کی وہ ختم نہیں ہوتی۔پھر بعض لوگ بیویوں سے ڈرتے ہیں اور بعض بیویاں خاوندوں سے ڈرتی ہیں۔اسی طرح بعض ماں باپ اپنے بچوں سے ڈرتے ہیں۔ٹرانسوال کی جنگ کے دنوں میں میں نے ایک مشہور جرنیل کی نسبت پڑھا کہ وہ بڑا بہادر اور نڈر ہے مگر چوہے کو دیکھ کر اس کی جان جاتی ہے۔اگر کبھی اسے چوہا نظر آ جائے تو جھٹ اردلی کو بلائے گا اور رات بھر جاگتا رہے گا اسے نیند نہیں آئے گی۔ایسے لوگوں کے اندر کوئی نہ کوئی رگ ایسی ہوتی ہے جس سے خوف داخل ہو جاتا ہے۔دوسرے مواقع پر وہ جان کی پرواہ نہیں کریں گے۔بندوقوں ، توپوں اور تلواروں کے سامنے اپنے آپ کو ڈال دیں گے ، دشمنوں کے ہجوم میں بلا خوف چلے جائیں گے مگر کسی معمولی سی چیز سے ڈر جائیں گے۔پس ہر چیز اور ہر خلق کی قسمیں ہوتی ہیں اور مؤمن کامل کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ تمام قسموں کو مکمل کرے۔ہر موقع پر اور ہر ہیبت والی چیز کے سامنے اپنے آپ کو دلیر بنائے۔مؤمن کی بہادری ایسی کامل ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنا بزدلی نہیں۔صداقت کے خلاف چلنے سے خوف کھانائی بزدلی نہیں بہادری ہے۔پس اس ہستی سے خوف کھانا جو ہمیشہ راستی پر ہوتی ہے بُو دلی نہیں کہلا سکتا کیونکہ اس سے خوف اپنی جان کی وجہ سے نہیں کھاتا بلکہ حق سے دور ہو جانے کے ڈر سے خوف کھاتا ہے۔چونکہ مؤمن خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو ایسا نہیں سمجھتا وہ یقین رکھتا ہے کہ قوم ، حکومت ، افسر، ما تحت سب غلط بات کہہ سکتے ہیں اور غلطی کر سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ جو بات کہے وہ غلط نہیں ہوسکتی۔پس وہ اللہ تعالیٰ سے اس لئے ڈرتا ہے کہ اس سے ڈرنا حق اور انصاف کا تقاضا ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دوسرے سب لوگ جب خدا تعالیٰ کی طرف۔