خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 82

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء بات نہ کر رہے ہوں غلطی کر سکتے ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ کسی افسر سے نہ ڈرو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اچھی بات بھی کہے تو بھی نہ مانو بلکہ اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جب وہ غلط بات کہے تب اس کی پرواہ نہ کرو۔اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ قوم کی پرواہ نہ کرو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ قوم کی کچی بات کو بھی نہ مانو اور کہہ دو کہ ہم بہادر ہیں اور قوم کی بات ماننا بُزدلی ہے۔ایسا کرنا تو حماقت بلکہ ظلم ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم جب غلطی کرے تو اس کی بات نہ مانو اور جب اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے ڈرو تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اللہ تعالی غلطی کر ہی نہیں سکتا اُس سے ہر حالت میں ڈرنا چاہئے۔پس جرات کا مفہوم یہ ہے کہ جب دوسرا غلط بات کہے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے چونکہ غلطی سرزد ہو ہی نہیں سکتی اس لئے اُس سے ڈرنا بُزدلی نہیں۔بُزدلی صرف یہ ہے کہ حق اور انصاف کے تقاضا کو پورا نہ کیا جائے۔غرض جس بزدلی کو ہم بُرا کہتے ہیں وہ اس مقام کے متعلق ہے جہاں غلطی ، نا انصافی اور ظلم کا امکان ہو اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی باتوں کا وہم بھی نہیں ہو سکتا اس لئے صرف اُس کی ذات ہے جس سے ڈرنا بُز دلی نہیں بلکہ بہادری ہے۔ہاں خدا تعالیٰ کے سوا کسی سے ڈرنا بُزدلی ہے اس لئے انسان کو تیار رہنا چاہئے کہ ان چیزوں کا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آتیں مقابلہ کرے۔ہاں اگر اچھی بات کوئی کہے تو انسان تو انسان خواہ شیطان ہی کہے اسے ماننا چاہئے۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے کہ ایک دفعہ اُن کی صبح کی نماز قضا ہو گئی وہ سوئے رہے اور وقت گزر گیا۔دوسرے دن انہوں نے کشف دیکھا کہ کوئی شخص اُن کو جگا رہا ہے اُن کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک آدمی پاس کھڑا ہے۔پوچھا کہ کون ہے؟ تو اُس نے کہا میں شیطان ہوں اور آپ کو نماز کیلئے جگاتا ہوں یہ حالت کشفی تھی۔انہوں نے کہا کہ شیطان کا کام تو نماز سے روکنا ہے مگر تو نماز کیلئے جگاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ بے شک میرا کام روکنا ہے مگر کل آپ نماز با جماعت سے رہ گئے تو آپ سارا دن روتے رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے کہا میرے بندے کو نماز رہ جانے کا اتنا قلق ہے اسے سو نمازوں کا ثواب دے دیا جائے۔اس پر میں نے خیال کیا کہ اگر آپ آج بھی سوئے رہے تو پھر سو نمازوں کا ثواب لے لیں گے اس سے بہتر ہے کہ میں خود ہی جگاؤں تا ایک ہی نماز کا ثواب مل سکے اے۔تو نیکی کی بات خواہ کوئی کہے اسے مان