خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 80

خطبات محمود ۸۰ سال ۱۹۳۶ء کا لفظ بولتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ یہ ایک چیز کا نام ہے اور محبت ہر ایک شخص میں ایک ہی قسم کی پائی جاتی ہے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ جذ بہ بحیثیت جنس اس میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی کون سی قسم اس میں پائی جاتی ہے یہ بات تفاصیل سے تعلق رکھتی ہے۔گزشتہ ایام سے میں جماعت کو یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ وہ اپنے اندر جرات اور قربانی کا مادہ پیدا کریں۔یہ بھی ایک مجمل لفظ ہے جس کی کئی تفاصیل ہیں۔جرات ، بہادری اور قربانی بھی کئی رنگ کی ہوتی ہے۔کئی لوگ ہوں گے جو مالی قربانی کیلئے تو تیار ہو جائیں گے مگر جانی کیلئے نہیں اور کئی جانی کیلئے تیار ہوں گے مگر مالی کیلئے نہیں۔پھر کئی لوگ ہوں گے جو جرات سے حکومت کا مقابلہ کریں گے مگر قوم کے مقابلہ میں کھڑے نہیں ہوسکیں گے۔اگر وہ اپنی قوم میں کوئی نقص اور عیب دیکھیں تو اُس کو بیان کرنے سے ڈریں گے مگر حکومت کے مقابلہ میں بڑی بہادری دکھائیں گے۔چنانچہ بعض لوگ چار چار پانچ پانچ بلکہ چھ چھ اور سات سات سال قید ہو جاتے ہیں اور پرواہ نہیں کرتے لیکن جس بات میں وہ دیکھیں کہ ان کی قوم کے چند لوگ ناراض ہوتے ہیں اُس کے بارہ میں کہہ دیتے ہیں کہ اسے جانے دو۔انہیں لاکھ سمجھاؤ کہ مذہب، صداقت، اخلاق اور انصاف یہی مطالبہ کرتا ہے مگر وہ یہی کہتے جائیں گے کہ قوم کے لیڈروں کا مقابلہ بہت مشکل ہے۔وہ جیل خانہ کی میں کئی سال کاٹ لیں گے مگر اپنے چند ایک ہم مشرب لوگوں کی بُری رائے کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔پھر بعض لوگ قوم کا مقابلہ بڑی دلیری سے کر لیتے ہیں۔قوم کے لوگ انہیں لعنت ملامت کریں، بائیکاٹ کریں، تعلقات منقطع کرلیں، تو وہ ذرا پرواہ نہیں کریں گے لیکن اگر کوئی یہ کہہ دے کہ تمہارے متعلق ڈپٹی کمشنر کی یہ رائے ہے تو وہ جھٹ دوڑے جائیں گے کہ حضور ! یہ بات صحیح نہیں۔حضور ! جس طرح حکم دیں میں کرنے کو تیار ہوں۔ان کے اندر بہادری کا مادہ بے شک ہوتا ہے مگر ساتھ ہی بُزدلی کا مادہ بھی ہوتا ہے۔ایسے انسان کے اندر ایک قسم کی جرات ہوتی ہے مگر ساتھ ہی ایک قسم کی بزدلی بھی ہوتی ہے لیکن کامل بہادری یہ ہے کہ دونوں کا مقابلہ کرنے کیلئے انسان تیار ہو۔حق کی خاطر قوم کا مقابلہ بھی کر سکے اور حکومت کا بھی۔اگر قوم غلطی کرے تو وہ سچی بات پیش کر کے کہہ دیں کہ مانو یا نہ مانو حق بات یہی ہے اور حکومت اگر غلطی کرے تو بھی وہ حق بات پیش کر کے کہہ دیں کہ خواہ مانو یا نہ مانو حقیقت یہی ہے مگر کئی لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔بعض لوگ