خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 651

خطبات محمود ۶۵۱ سال ۱۹۳۶ ا خالص منافق پاتا ہے۔اس کے برخلاف اگر اسی منافق کو کسی ایسے شخص کا علم ہوتا ہے جسے کسی وجہ سے خلافت سے کچھ بدظنی ہو جاتی ہے تو یہ دوڑ کر اُس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔پہلے تو بیچ بیچ کر شبہات ظاہر کرتا ہے، کبھی کہتا ہے خلافت برحق مگر موجودہ خلیفہ کی طبیعت ذرا نازک ہے، کبھی کہتا ہے خلیفہ اول بہت متقی انسان تھے، کبھی کہتا ہے وہ بہت سادہ تھے، پھر آہستہ آہستہ جب وہ اس شخص کے ایمان کو کمزور کر لیتا ہے تو کھلے طور پر کہ دیتا ہے کہ اجی ! ناظر اور دوسرا عملہ کیا کرے خلیفہ صاحب کسی کی بات تو سنتے نہیں اور اگر کوئی حق بات کہہ دے تو اُس کی شامت آ جائے۔اس پر الٹی جھاڑیں پڑیں اور ایسی ڈانٹ ڈپٹ ہو کہ ساری عمر یا د رکھے کیا کسی نے جماعت سے نکلنا ہے کہ خلیفہ کو جا کرسچا مشورہ دے۔غرض وہ ہر قسم کے آدمی سے علیحدہ علیحدہ ایسی گفتگو کرتا ہے جو اس کمزور انسان کے مرض کے مطابق ہو خواہ ایک گفتگو دوسری سے متضاد ہی ہو۔بعض دفعہ اس منافق کی گفتگو ایسی متضاد ہوتی ہے کہ اگر دونوں شخص اکٹھے ہو کر تبادلہ خیالات کریں تو دنگ رہ جائیں کہ اس منافق نے ایک سے کیا کہا اور دوسرے سے کیا کہا۔ایک سے تو یہ کہا کہ خلیفہ بیچارہ کیا کرے اُس تک تو ناظر بات نہیں پہنچنے دیتے ورنہ وہ تو انصاف دینے پر تیار رہتا ہے اور دوسرے سے یہ کہا کہ کا رکن تو نہایت اچھے ہیں لیکن ان کی کوئی سنتا ہی نہیں۔ناظر بیچارے کئی دفعہ سچ کہنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فوراً ڈانٹ پڑ جاتی ہے۔غرض منافق کی چال ہر جگہ بدلتی رہتی ہے وہ جانتا ہے کہ جن مؤمنوں سے وہ علیحدہ علیحدہ گفتگو کرتا ہے وہ اکٹھے ہو کر تو کبھی اُس کی گفتگوڈ ہرا ئیں گے نہیں اس لئے اس کا بھید نہیں کھل سکے گا اور اگر وہ کبھی اکٹھے ہو کر بات بھی کر لیں اور اس کی شرارت کا بھانڈا پھوٹ جائے تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ پھر یہ قسمیں کھا کھا کر اور جھوٹ بول بول کر اپنے عیب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔چنانچہ ان دنوں بھی منافقوں کا یہی رویہ ہے اگر وہ پکڑے جائیں تو جھٹ قسمیں کھانے لگ جاتے ہیں کہ اصل میں غلط فہمی ہو گئی میں نے کچھ اور کہا تھا۔لیکن جب یہ بہا نہ بھی نہ چلے اور الزام ثابت ہو جائیں تو پھر جو چھوٹا الزام ہوا سے تسلیم کرلیں گے مثلاً اوپر کی مثال میں یہ تسلیم کر لیں گے کہ ہاں ہم نے ناظروں کے خلاف کہا تھا خلیفہ کے خلاف نہیں کہا اور اُس شخص کو مخاطب کر کے جس