خطبات محمود (جلد 17) — Page 650
خطبات محمود سال ۱۹۳۶ ނ لگا تا رہتا ہے اس وجہ سے سادہ لوح مؤمن ہمیشہ ہی منافق کی چالا کی اور ہوشیاری کا شکار رہتے ہیں۔منافق جس سے ملتا ہے پہلے اس کی نسبت تاڑتا ہے کہ یہ کس خیال کا آدمی ہے اور پھر اس سے بات کرتا ہے۔بعض منافقین کے متعلق ان کے دوستوں نے بتایا کہ ہم پندرہ بیس سال سے ان۔تعلقات رکھتے تھے مگر ان کی منافقت کا ہمیں کوئی علم نہیں ہوا اور جب ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے بعض دوسرے لوگوں سے منافقانہ باتیں کیں تو ہم حیران رہ گئے۔منافق بھی سوچ بچار کر کے دوستا نے کرتا ہے بعض دفعہ وہ ایک مخلص انسان سے اس لئے دوستانہ لگا لیتا ہے کہ وہ ہمیشہ میری براءت کا گواہ رہے گا اور اس کی دوستی اور ضرورت کے موقع پر اس کی شہادت کی وجہ سے لوگ مجھ پر شک نہیں کر سکیں گے اور خیال کریں گے کہ اتنے مخلص آدمی سے تعلق رکھنے والا منافق نہیں ہوسکتا اور اگر کسی شخص نے میری منافقت کا بھانڈا پھوڑ دیا تو میں جھٹ اس مخلص کی شہادت پیش کروں گا کہ یہ شخص میرا اتنے سال سے دوست ہے اس سے میرے خیالات پوچھو اور وہ جھٹ اپنی مؤمنانہ سادگی سے کود کر آگے آجائے گا اور بڑے جوش سے میرے مخلص ہونے کی گواہی دے گا۔ایسے آدمیوں کو چھوڑ کر وہ دوسرے لوگوں سے ان کے خیالات کے مطابق منافقانہ گفتگو کرتے ہیں۔مثلاً ایک منافق کو اگر ایک دوسرے شخص کی نسبت جو ہو تو مخلص لیکن کمزوری کی وجہ سے منافق کا اثر قبول کرنے کیلئے تیار ہو یہ معلوم ہو کہ اُسے نظام سلسلہ سے کوئی شکوہ ہے لیکن ساتھ ہی وہ خلیفہ سے اخلاص رکھتا ہے تو وہ جھٹ اُسے جا کر ملے گا اور یوں بات شروع کرے گا کہ کیا رکیا جائے خلیفہ تک تو کوئی بات پہنچنے ہی نہیں دیتا اگر ان تک بات پہنچے تو وہ ایک منٹ میں انصاف کر دیں مگر مشکل تو یہ ہے کہ ان تک بات پہنچتی ہی نہیں اور یہ درمیانی افسر غریبوں پر ظلم کرتے چلے جاتے ہیں۔سننے والا چونکہ نظام سلسلہ سے ٹھو کر کھائے ہوئے ہوتا ہے اور اُس کی امید میں خلافت کے وجود سے وابستہ ہو رہی ہوتی ہیں وہ اس کلام میں نظام پر حملہ اس قدر محسوس نہیں کرتا جس قدر خلافت سے عقیدت کا اظہار اُسے نظر آتا ہے اور چونکہ وہ خود بھی اُس وقت اسی رائے کا ہوتا ہے وہ کو اس منافق کو عقلمند مخلص سمجھتے ہوئے اُس کی محبت کو اختیار کر لیتا ہے یہاں تک کہ کچھ دنوں میں نفاق کا زہر اُس کے ایمان کے تریاق کو بھی ضائع کر دیتا ہے اور یہ کمزور مخلص ایک دن اپنے آپ کو