خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 558

خطبات محمود ۵۵۸ سال ۱۹۳۶ صاحب آپ سے کچھ دریافت کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر نیت بخیر باشد - حنفی مولوی بھی کی نیک تھا وہیں خاموش ہو کر چل دیا۔لوگوں نے پوچھا تو کہا کہ میری نیت نیک نہیں تھی کیونکہ فضول بحث کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔پس نیست اگر نیک ہو تو وعظوں کی حاجت نہیں رہتی۔قرآن کریم میں ہے کہ وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ۱۵ یعنی تمہارے دلوں میں بھی نشان موجود ہیں کیا تم دیکھتے کی نہیں۔پس ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی ذمہ داری ڈالی ہے انسان کے اندر کمزوریاں خواہ پہاڑ کے برابر ہوں وہ اگر چھوڑنے کا ارادہ کرلے تو کچھ مشکل نہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مشہور مقولہ ہے کہ اگر تمہارے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو تو تم پہاڑ کو ان کی جگہوں سے ہٹا سکتے ہو۔اس کا مطلب یہی ہے کہ گناہ خواہ پہاڑ کے برابر ہوں انسان کے اندر ایمان اگر رتی کے برابر بھی پیدا ہو جائے تو وہ ان پہاڑوں کو اُڑ سکتا ہے۔مؤمن جس دن ارادہ کر لے اس کے رستہ میں کوئی روک نہیں رہتی۔میں بتا چکا ہوں کہ ان خطبات کا ایک حصہ تحریک جدید کا دوسرا حصہ ہے جو آئندہ کبھی بیان کروں گا اس لئے میں اب بھی اس بارہ میں کچھ نہیں کہتا ہاں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست اپنی اپنی اولادوں کی اور جماعت کے دوسرے نوجوانوں کی اصلاح کریں۔جھوٹ، چوری، دغا، فریب ، دھوکا ، بد معاملگی ، غیبت و غیره بد عادات ترک کر دیں حتی کہ ان کے ساتھ معاملہ کرنے والا محسوس کرے کہ یہ بڑے اچھے لوگ ہیں اور اگر کوئی ان کے پاس کروڑوں روپیہ بھی رکھ دے تو سمجھے کہ بالکل محفوظ ہے کیونکہ جس کے پاس رکھا ہے وہ احمدی ہے اور اگر دوست اپنے اندر ایسی تبدیلیاں پیدا کر لیں تو تحریک جدید کے دوسرے حصہ کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی سارا کام ہو جاتا ہے۔اچھی طرح یا درکھو کہ اس نعمت کے دوبارہ آنے میں تیرہ سو سال کا عرصہ لگا ہے اور اگر ہم نے اس کی قدر نہ کی اور پھر تیرہ سو سال پر یہ جاپڑی تو اُس وقت تک آنے والی تمام نسلوں کی لعنتیں ہم پر پڑتی رہیں گی اس لئے کوشش کرو کہ اپنی تمام نیکیاں اپنی اولادوں کو دو اور پھر وہ آگے دیں اور وہ آگے اپنی اولادوں کو دیں اور یہ امانت اتنے لمبے عرصہ تک محفوظ چلی جائے کہ ہزاروں