خطبات محمود (جلد 17) — Page 539
خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۶ کے قائمقام تھیں، اُس کا حوصلہ بلند تھا۔مؤمن کی شان ہی یہی ہے کہ جس طرح وہ کروڑوں۔نہیں گھبرا تا اسی طرح دس روپے سے بھی نہیں گھبرا تا۔پس إِيَّاكَ نَسْتَعِینُ کا درجہ حاصل کر لینے کے بعد مؤمن دنیا کی کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کی پشت پر ایک قادر مطلق ہستی ہے۔دنیا میں دیکھ لو کہ انگریز کیونکر ایک طاقتور حکومت ہے اس لئے اس کا ایک سپاہی بھی اکٹر اکٹر کر چلتا ہے اور لوگ اس سپاہی سے ڈرتے بھی ہیں۔حقیقت میں وہ اس معمولی سپاہی سے نہیں ڈر رہے ہوتے بلکہ اس سپاہی کی پشت پر جوز بر دست طاقت ہے اُس سے ڈر رہے ہوتے ہیں۔تو جب ایک معمولی سی دنیاوی حکومت کا سپاہی کسی سے نہیں ڈرتا تو کیا خدا تعالیٰ کا سپاہی اور اس کا نو کر کسی سے ڈرسکتا ہے۔إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جواب اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ دیتا ہے کہ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی عَنِي فَإِنِّي قَرَيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی جب کوئی شخص یہ سوال کرے کہ خدا کہاں ہے؟ تو تم اس کو کہہ دو کہ خدا تمہارے بالکل قریب ہے۔تم بولو وہ آیا۔گویادَعْوَةَ الدَّاعِ ایک سیٹی ہے جو مؤمن کو دی جاتی ہے جس طرح ایک سپاہی سیٹی بجاتا ہے اور اُس کی سیٹی کی آواز کے سنتے ہی اُس کے افسر اُس کی مدد کیلئے آن موجود ہوتے ہیں اسی طرح جب مومن دَعْوَةَ الدَّاعِ کی سیٹی بجاتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کیلئے بلاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فوراً اُس سیٹی کی آواز سن کر اُس کے پاس آکر کہتا ہے کہ ہاں بتلاؤ کیا کہتے ہو؟ میں تمہاری مدد کیلئے آ گیا ہوں۔پس بد بخت اور نالائق ہے وہ شخص جو اس سیٹی کے اپنے پاس ہوتے ہوئے بھی کسی سے ڈرتا ہے۔قصوں کی کتابوں میں ایسی کہانیاں لکھی ہوتی ہیں کہ فلاں دیو فلاں شخص کو جاتا ہؤا بال دے گیا اور کہہ دیا کہ اگر تم کو میری مدد کی ضرورت ہو تو اس بال کو آگ دکھا دینا میں فوراً تمہارے پاس تمہاری مدد کیلئے آن پہنچوں گا۔یہ تو فرضی کہانیاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں ہم کو أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کا بال دیا ہوا ہے جس کے ذریعہ سے ہم اپنے پروردگار کو جس وقت چاہیں نہایت آسانی سے اپنی مدد کیلئے بلا سکتے ہیں اور اس بال کے مل جانے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اپنے دل میں خوف رکھتا ہے تو وہ ازلی شقی اور پاگل ہے اور اللہ تعالیٰ کو پکارنا بعض اوقات اس طور پر بھی ہوتا ہے کہ ہم اس کی راہ میں مارے جائیں یا اور قسم کے مصائب ہم پر