خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۳۶ طب پڑھنا چاہتا ہوں۔کہنے لگے کہ میں تو ایک عرصہ سے طب پڑھانا ترک کر چکا ہوں۔میں آپ کو ایک اور مشہور طبیب کی شاگردی میں داخل کر دیتا ہوں۔میں نے کہا کہ اگر کسی اور طبیب سے ہی پڑھنا ہے تو پھر آپ کی سفارش کی ضرورت ہی کیا ہے میں خود ہی اس کے پاس جا سکتا ہوں۔اس پر انہوں نے کہا کہ اچھا بتا ئیں آپ کس قدر طب پڑھنی چاہتے ہیں۔مجھے اُس عمر میں طبّ وغیرہ کا تو قطعاً کچھ علم ہی نہ تھا۔ہاں افلاطون کے بارہ میں سن رکھا تھا کہ وہ بہت چوٹی کے حکا ہو گزرے ہیں چنانچہ میں نے جواب دیا کہ افلاطون کے برابر طب پڑھنی چاہتا ہوں۔میں نے افلاطون کا نام لیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے کہ اگر آپ کا منشاء افلاطون کے برابر طب پڑھنے کا ہے تو ضرور کچھ نہ کچھ سیکھ ہی لیں گے۔حضرت خلیفہ اول کی نگاہ بچپن میں بھی افلاطون تک ہی گئی اور کسی چھوٹے طبیب کی طرف ان کا ذہن منتقل ہی نہیں ہوا۔کامل مؤمن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی اشیاء پر نہیں گر پڑتا بلکہ خدا تعالیٰ کی شان کے مطابق اس سے امید رکھتا ہے اور اگر ہم خدا تعالیٰ سے چھوٹی چھوٹی چیزیں مانگ کر ہی صبر کر بیٹھیں تو یہ خدا تعالیٰ کی کسر شان ہے گویا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بڑی چیزیں نہیں دے سکتا۔خدا تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ وہ ہم کو جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمواتُ وَالْاَرْضُ نے کی امید دلاتا ہے۔اگر کہیں سے ہم کو کروڑ رو پیل رہا ہو تو ہم کیوں پانچ روپوں پر راضی ہوں۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مؤمن کو لالچ ہوتا ہے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص عنایت ہے اس کو لالچ نہیں کہا جا سکتا۔مؤمن کا حوصلہ بہت بلند ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میرے پاس ایک غریب عورت آئی مجھے خیال ہوا کہ اس کی کچھ امداد کر دوں۔میں نے اس سے کہا کہ مائی ! تجھے کچھ ضررت ہو تو بتلاؤ تا کہ امداد کی جائے۔کہنے لگی کہ مجھے کچھ ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ نے سب کچھ دے رکھا ہے اور اس کی تفصیل یوں بیان کی کہ میرا ایک لڑکا بھی ہے اور ہم دونوں کے پاس ایک بڑا قرآن مجید ہے۔جس کو ہم دونوں باری باری پڑھ لیتے ہیں۔ایک کافی بڑا لحاف ہے اس میں ہم دونوں رات کو اکٹھے سورہتے ہیں۔جب مجھ کو زیادہ سردی محسوس ہوتی ہے تو میں لحاف کو اپنے اوپر اچھی طرح سے لپیٹ لیتی ہوں اور جب میرے لڑکے کو سردی محسوس ہوتی ہے تو وہ لحاف کو اپنے اوپر ڈال لیتا ہے۔ایک مکان ہے اس میں ہم آرام سے گزارہ کر لیتے ہیں۔اُس عورت کے نزدیک یہی اشیاء سب کچھ