خطبات محمود (جلد 17) — Page 515
خطبات محمود ۵۱۵ سال ۱۹۳۶ میں گھوڑے پر سوار ہے اور جس کے آگے پیچھے سپاہی ننگی تلوار میں لئے کھڑے ہیں وہ ابو جہل ہے۔وہ کہتے ہیں ابھی میرا ہاتھ نیچے نہیں آیا تھا کہ جس طرح باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے وہ دونوں کو ذکر لشکر کفار میں گھس گئے اور اس تیزی سے گئے کہ پہرہ داروں کے حواس باختہ ہو گئے مگر پھر بھی ایک پہرہ دار نے اُن میں سے ایک کا ہاتھ کاٹ دیا مگر اُس نے اس کی پرواہ نہ کی اور ابو جہل تک پہنچ ہی گیا اور دونوں لڑکوں نے مل کر ابو جہل کو گرا دیا ھے اور اُسے بُری طرح زخمی کر کے گرادیا جو بعد میں عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہاتھ سے مارا گیا۔سیہ وہ لوگ تھے جن کو ایک ہی دھن تھی کہ محمد ﷺ کے احکام کی اطاعت میں دنیا میں ایک نیا تغیر پیدا کر دیں۔انہوں نے اطاعت کی اور اس کا پھل پالیا آج ہم جو کچھ کریں گے اس کا پھل آئندہ زمانہ میں پالیں گے مگر یہ چیز ہے جس کی طرف جماعت کو لا نا ہمارا فرض ہے اسی لئے آجکل میں بالکل پرواہ نہیں کر رہا اور جماعت کا قدم آگے سے آگے بڑھا رہا ہوں اور اسی وجہ سے جو قادیان کے منافق ہیں وہ بھی پہلے سے زیادہ اعتراض کرنے لگ گئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لوگوں پر بوجھ چونکہ زیادہ پڑ رہا ہے اس لئے وہ جلدی ان کے دھوکا اور فریب میں آجائیں گے مگر وہ نہیں جانتے کہ میں آدمیوں کو نہیں دیکھ رہا بلکہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں۔میں ایسا بیوقوف نہیں کہ سمجھوں کہ اس وقت جو لوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں ان کے ذریعہ میں دنیا کو فتح کر سکتا ہوں یا جماعت میں اس وقت جتنے آدمی شامل ہیں ان کے ذریعہ ساری دنیا فتح کی جاسکتی ہے۔پچاس ہزار یا لاکھ دو لاکھ آدمی ساری دنیا کے مقابلہ میں کیا کر سکتے ہیں۔پھر مال کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو ان کے پاس مال کہاں ہے، طاقت کے لحاظ سے انہیں دیکھو تو ان کے پاس طاقت کہاں ہے۔پس میں دنیا کی فتح کا آدمیوں کے ذریعہ اندازہ نہیں کرتا آدمی میرا ساتھ نہیں دے سکتے بلکہ ایمان اور اخلاص میرا ساتھ دے سکتا ہے اور جب کسی انسان کے ساتھ ایمان اور اخلاص شامل ہو جائے تو ساری دنیا کے خزانے مل کر بھی اس کے مقابلے میں بیچ ہو جاتے ہیں۔آج میں خصوصیت کے ساتھ اسی مسئلہ کو بیان کرنے کیلئے آیا ہوں کہ جماعت کو توجہ دلاؤں کہ اُس مقام کو حاصل کئے بغیر جس میں انسان فنافی اللہ ہو جاتا ہے کسی قسم کی کامیابی اور ترقی حاصل نہیں ہوسکتی۔آج سے قریباً پونے دو سال پہلے جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا جماعت میں