خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 516

خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۶ ایک شور تھا، ایک غوغا تھا، ایک ہنگامہ تھا اور لوگ کہہ رے تھے کہ ہم کو حکم دیجئے ہم اپنا سب کچھ احمدیت کیلئے قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن آج جاؤ اور تحریک جدید کے مالی وعدوں کو دیکھ لو رجسٹر موجود ہیں ان سے معلوم کر لو، پرانے خطوط محفوظ ہیں انہیں نکال کر پڑھ لو۔کئی قربانیوں کا شور مچانے والے ایسے نکلیں گے جنہیں کہا گیا تھا کہ اگر تم کوئی رقم ادا نہیں کر سکتے تو اس رقم کی ادا ئیگی کا وعدہ مت کرو کیونکہ یہ کوئی جبری چندہ نہیں مگر انہوں نے وعدہ کیا پھر اسے پورا نہیں کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک واقعہ سنایا کرتے تھے فرماتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاں یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں ، مجھے صحیح یاد نہیں چوری ہوگئی اور ان کا کچھ زیور پر ایا گیا۔ان کا ایک نو کر تھا وہ شور مچاتا پھرے کہ ایسے کم بخت بھی دنیا میں موجود ہیں جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ کے ہاں چوری کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے۔وہ چوری کرنے والے پر بے انتہاء لعنتیں ڈالے اور کہے خدا اس کا پردہ فاش کرے اور اسے ذلیل کرے۔آخر تحقیقات کرتے کرتے پتہ لگا کہ ایک یہودی کے ہاں وہ زیور گرو رکھا ہوا ہے۔جب اُس یہودی سے پوچھا گیا کہ یہ زیور کہاں سے تمہیں ملا ؟ تو اس نے اسی نوکر کا نام بتلا یا جو شور مچاتا اور چور پر پر لعنتیں ڈالتا پھرتا تھا۔تو و منہ سے لعنتیں ڈال دینا یا زبان سے فرمانبرداری کا دعویٰ کرنا کوئی چیز نہیں عمل اصل چیز ہوتی ہے۔ور نہ منہ سے اطاعت کا دعویٰ کرنے والا سب سے زیادہ منافق بھی ہو سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک جدید میں وعدہ کیا اور پھر اُسے پورا نہیں کیا منافق ہیں مگر کئی تھے جنہوں نے پہلے سال وعدہ کیا اور پھر وعدہ پورا بھی کیا مگر دوسرے سال کی تحریک میں آکر رہ گئے۔ایسے لوگ یک سالہ مؤمن تھے اُن کی دوڑ پہلے سال میں ہی ختم ہوگئی دوسرے سال کی دوڑ میں وہ شریک نہ ہو سکے۔یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سال شور مچاتے تھے کہ جو قربانی لینی ہے ابھی لے لو۔ایسے تمام لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ میں نے اسی لئے تحریک جدید کے متعلق تین سال کی شرط لگا دی تھی تاتی وہ جو پہلے یا دوسرے قدم پر تھک کر رہ جانے والے ہیں وہ پیچھے ہٹ جائیں اور خالص مؤمن باقی رہ جائیں۔ایمان اور اخلاص کے سانس بھی مختلف ہوتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں فلاں اونٹنی دس میل دوڑ سکتی ہے، فلاں اونٹنی ہیں میل اور فلاں سو میل۔ایمان کی بھی دوڑیں ہوتی ہیں اور ایمان کی دوڑ میں وہی جیتے ہیں جن کیلئے کوئی حد بندی نہ ہو۔ہمیں نہ یک سالہ مؤمن کام دے سکتے ہیں نہ