خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 514

خطبات محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۶ نہیں ، تمہارے پاس گھوڑے ہیں اور ان کے پاس گھوڑے نہیں، تم ہزاروں ہو اور وہ تین سے سوا تین سو ہیں بلکہ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ ایک اشارہ پر مر جانے والے اور ایک آواز پر اپنی جانیں فدا کر دینے والے آدمی ہیں۔ایسے آدمیوں کا مقابلہ آسان نہیں کیونکہ میں نے آدمی نہیں دیکھے بلکہ موتیں دیکھی ہیں جو اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ موتیں ہی تھیں۔وہ سوائے موت کے اور کسی چیز کو نہیں جانتے تھے۔یا وہ خود مارے جاتے تھے یا دوسروں کو مار دیتے تھے۔میں نے کئی دفعہ واقعہ سنایا ہے کہ اسی جنگ میں دو انصاری لڑکے بھی شامل تھے جو نہایت چھوٹی عمر کے تھے جن میں سے ایک لڑکے کے متعلق رسول کریم ﷺ نے بھی فیصلہ فرما دیا تھا کہ وہ اتنی چھوٹی عمر کا ہے کہ اُسے لڑائی میں شامل نہیں کیا جا سکتا مگر وہ اتنار ویا اتنا رویا کہ رسول کریم ﷺ کو رحم آگیا اور آپ نے اُسے شامل ہونے کی اجازت دے دی۔حضرت عبد الرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے جنگ میں ان کے دائیں بائیں یہ دونوں لڑکے کھڑے تھے۔وہ کہتے ہیں میں اپنے دل میں افسوس کر رہا تھا کہ آج چھوٹے چھوٹے لڑکے میرے دائیں بائیں ہیں میں کس طرح لڑ سکوں گا کہ اتنے میں دائیں طرف سے مجھے کہنی پڑی۔میں نے مُڑ کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ اُس لڑکے نے جو میرے دائیں طرف کھڑا تھا مجھے کہنی ماری ہے۔مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر کہنے لگا چا! وہ ابو جہل کونسا ہے جو مکہ والوں کا سردار ہے میں نے سنا ہے کہ وہ رسول کریم ﷺ کو بڑا دکھ دیا کرتا تھا میں نے آج اُس سے بدلہ لینا ہے۔وہ کہتے ہیں میں ابھی اُسے جواب بھی دینے نہ پایا تھا کہ دوسری طرف سے مجھے کہنی پڑی میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ بائیں طرف کے لڑکے نے مجھے کہنی ماری ہے۔اُس نے بھی مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر کہا چا ! وہ ابو جہل کو نسا ہے جو مکہ والوں کا سردار ہے اور جو رسول کریم ﷺ کو بہت دُکھ دیا کرتا تھا میں نے آج اُس کی جان لینی ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ باوجود ایک تجربہ کار جرنیل ہونے کے میں خیال بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ابو جہل کو مار سکوں گا کیونکہ وہ قلب لشکر میں کھڑا تھا اور پہرہ داروں کے جھرمٹ میں تھا اور بہادر سپاہی اس کی حفاظت کیلئے بنگی تلوار میں لئے اس کے پہرہ پر کھڑے تھے۔لیکن جب دونوں لڑکوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے انگلی اٹھائی اور کہا دیکھو ! وہ جو قلب لشکر