خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 427

خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۳۶ بچاتی ہے، یہاں تک کہ ترکوں نے حکم دے دیا ہے کہ جو سر پر چھجے دار ٹوپی نہ پہنے گا اسے کوڑے لگائے جائیں گے اور جو داڑھی رکھے گا اُسے سزا دی جائے گی۔داڑھی رکھنے اور لمبا کوٹ پہننے کیلئے لائسنس کی ضرورت ہے جس طرح بندوق کیلئے ہمارے ہاں لائسنس ضروری ہوتا ہے گو با داڑھی سے بھی کسی کو گولی ماری جاسکتی ہے۔آخر کیا چیز تھی جس سے سو سال کے اندر اندر دنیا میں لویا اس قدر تغیر ہو گیا اور ترکوں میں تو یہ تبدیلی پندرہ بیس سال سے ہی ہوئی ہے پہلے وہ ہیٹ کے سخت دشمن تھے اور ان کا قومی لباس فیض کیپ سا تھا جسے ہمارے ہاں رومی ٹوپی کہتے ہیں۔باقی یورپین ہے لباس تو خیر یورپ میں بھی ترکوں سے ہی گیا ہے لیکن فیض ابھی قریب میں ان کے ہاں موجود تھی تھی اور پندرہ بیس سال پہلے اسے اُتارنا ترک اپنی ہتک سمجھتے تھے مگر آج جو اسے پہنے اسے کوڑے لگائے جاتے ہیں۔یہ تغیر کیوں ہوا ؟ اسی لئے کہ بعض تو میں ایسی تھیں جو ہیٹ پہنتی تھیں اور شرماتی نہیں تھیں انہیں دنیوی عزت حاصل تھی اس لئے دوسروں نے خیال کیا کہ شاید ترقی اسی میں ہے۔نقالوں کی مثال تو ایسی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کسی ملک میں کوئی شخص طب نہ جانتا تھا وہاں ایک طالب علم تھا جو بہت ہوشیاری کا دعویٰ کرتا تھا اور لستان تھا مگر دراصل بیوقوف تھا وہاں کے لوگوں نے اسے اپنے ہمسایہ ملک میں طب سیکھنے کیلئے بھیجا اور اس کے ملک کے رؤساء نے اپنے واقفوں اور آشناؤں کے نام اسے خطوط وغیرہ بھی دیئے۔چنانچہ وہ گیا اور ایک طبیب۔شاگردوں میں داخل ہو گیا۔ابھی دو تین روز ہی ہوئے کہ طبیب کسی مریض کو دیکھنے گیا اور اسے بھی کی قلمدان اُٹھا کر ساتھ چلنے کو کہا۔وہاں جا کر مریض کی نبض دیکھی اور اسے کہا کہ آپ نے کل چنے کھالئے بھلا آپ ایسے نازک مزاج کو چنے کہاں ہضم ہو سکتے ہیں پیٹ درد اسی وجہ سے ہے اسے نسخہ لکھ دیا اور واپس آ گیا۔وہ طالب علم استاد کے مکان پر پہنچ کر کہنے لگا کہ بس اجازت دیجئے میں واپس جانا چاہتا ہوں۔اس نے پوچھا کیا طب سیکھنے کا ارادہ ترک کر دیا ؟ اُس نے کہا نہیں بس میں کو پڑھ چکا، ہوشیار آدمی بہت جلد سیکھ سکتا ہے وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔استاد نے کہا کہ اتنی جلدی طب کہاں سیکھی جاسکتی ہے؟ اس نے کہا نہیں جی ! ہوشیار آدمی کیلئے کیا چیز مشکل ہے اصل چیز تشخیص ہے سو اس کا گر میں نے معلوم کر لیا ہے آگے علاج تو ہر ایک جانتا ہے۔وطن پہنچا تو لوگوں نے کہا اتنی جلدی آگئے ؟ اس نے کہاں ہاں بس میں سیکھ آیا ہوں ہوشیار آدمی جلد سیکھ