خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 426

خطبات محمود ۴۲۶ سال ۱۹۳۶ کامیاب ہیں مگر ملتی اصلاح بعض افراد کی اصلاح سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کیلئے جماعتی اصلاح بھی ضروری ہوتی ہے۔جماعتی اصلاح دنیا کے سامنے ایک ایسا نظارہ پیش کرتی ہے کہ دوسرے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔یا درکھنا چاہئے کہ دنیا میں سب سے بڑی قوت عمل نقل ہے اس سے زیادہ اثر کرنے والی کوئی اور قوت موجود نہیں۔نقل دنیا میں ایسے حیرت انگیز کام کراتی ہے کہ عقل کو بھی پردے میں چھپا دیتی ہے اور یہ چیز دنیا کی عقل اور سمجھ اور فہم پر اس قدر غالب آجاتی ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ہماری گزشتہ تاریخ ابھی اتنی قدیم نہیں کہ نظروں سے اوجھل ہو سکے۔ابھی قریباً سو سال کا ہی عرصہ ہوا ہے کہ ہندوستان کا فیشن بالکل اسلامی تھا۔لوگ جیتے اور عمامے پہنتے اور داڑھیاں رکھتے تھے تختی کہ ہندو بھی عمامے اور جیتے پہنتے اور داڑھیاں رکھتے تھے مگر آج وہ زمانہ ہے کہ وہ لوگ جن کے گھروں سے یہ چیزیں نکلی تھیں وہ خود ان کو چھوڑ بیٹھے ہیں ، کوٹ پتلون اور ہیٹ کے دلدادہ ہیں اور داڑھیاں منڈواتے ہیں۔غور کرو کہ آج سے صرف سو سال قبل وہ کونسی چیز تھی جس نے داڑھی کو معقول بنادیا تھا، وہ کونسے دلائل تھے جنہوں نے جیتے اور عمامے کے دوسرے سب لباس پر فوقیت دے دی تھی اور چھوٹے کوٹ کو ادنی اور ذلیل قرار دے دیا تھا۔صرف یہ کہ ایک قوم تھی جسے دنیا اچھا سمجھتی تھی وہ دوسروں کے اثر کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھی لوگ سمجھتے تھے کہ یہ قوم نہ کسی سے ڈرتی ہے نہ کسی کا اثر قبول کرتی ہے اور پھر ترقی اور عروج پر ہے اس لئے ضرور اس کے اندر کوئی خوبی ہے اس وجہ سے دوسروں نے بھی اس کی نقل شروع کر دی۔پھر ایک اور قوم آئی جس کے پیچھے قوت ارادی موجود تھی وہ جُبہ پوشوں کے سامنے چھوٹے کوٹ اور عماموں والوں کے سامنے ہیٹ پہنے پھرتی رہی ، وہ منڈی ہوئی داڑھیوں پر استقلال سے قائم رہی ، لوگ اُس پر ہنستے اور پھبتیاں اُڑاتے رہے اور کہتے رہے کہ یہ مرد ہیں یا عورتیں؟ ان کے چھوٹے کوٹوں کو دیکھ کر لوگو مضحکہ اُڑاتے اور کہتے کہ کتنے کنجوس ہیں کیا دور گرہ اور کپڑا نہ ملتا تھا کہ لبادہ بنا لیتے ، ان کے سروں پر ہیٹ دیکھ کر کہتے کہ یہ بھی کوئی لباس ہے جیسے بندر کے سر پر ٹوکری رکھی ہو مگر وہ لوگ اپنی بات پر قائم رہے اور آہستہ آہستہ نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ ان کی ہنسی اڑاتے تھے وہ بھی نقل کرنے لگے اور ساری دنیا میں یہی روچل گئی کہ چھوٹا کوٹ ہی اچھی چیز ہے، ہیٹ بہت آرام دہ ہے دھوپ۔ނ