خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 418

خطبات محمود ۴۱۸ سال ۱۹۳۶ خیال کیوں نہیں پیدا ہوا۔کیا ان کو ہمارے عقائد کا اس سے قبل علم نہ تھا ؟ کیا ہمارے متعلق مولویوں کے فتوؤں سے وہ اس سے قبل آگاہ نہ تھے ؟ پھر احرار بھی یہاں قریباً دو سال سے ہیں اس عرصہ میں ان کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ عید گاہ اور قبرستان کا سوال اُٹھا ئیں۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ کے پس پردہ اور انگلیاں ہیں جو حرکت کر رہی ہیں۔یہ انسان نہیں بلکہ ئے بولتی ہے جس کے پیچھے کسی اور کے ہونٹ ہیں اس وجہ سے میں ان کو معذور سمجھتا ہوں کیونکہ یہ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے بلکہ انہیں دوسرے لوگ بلوار ہے ہیں مگر میں ان کو یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ ان کے اعلانات کی وجہ سے اپنے حق کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوسکتی۔اگر حکومت ہمیں جبرا روک دے گی تو اگر چہ ہم قانون کی پابندی کریں گے اور اس کے حکم کو نہیں توڑیں گے مگر قانونی طور پر اپنے حق کو حاصل کرنے کیلئے پوری کوشش کریں گے اور ہر جائز ذریعہ ان لوگوں کو تباہ کرنے کا استعمال کریں گے جو ہمارے جائز حقوق کے راستہ میں کھڑے ہوں گے۔اگر چہ ہم قانون کی پابندی کریں گے مگر ایذاء کو دور کرنے کیلئے شریعت اور قانون نے ہمیں جن ذرائع کے استعمال کرنے کی اجازت کی دی ہے انہیں ضرور استعمال کریں گے اور دنیا دیکھ لے گی کہ ہمارا حق حاصل ہو کر رہے گا اور دشمن کو نامرادی اور ذلت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔مگر میری طبیعت کا رحم اور اسلامی شفقت مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں ان کے سامنے ایک آسان تجویز پیش کروں۔اس قبرستان میں تو ان کا اور ہمارا دونوں کا حق ہے اور دونوں میں سے کسی کا حق بھی باطل نہیں ہوسکتا۔احرار دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اٹھارہ گھماؤں زمین قادیان میں خریدی ہوئی ہے اگر چہ وہ ہمیں نظر تو نہیں آتی کہ کہاں ہے اور نہ سرکاری کاغذات میں سے اس کا پتہ چلتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ خریدی ہوئی ہے۔اب جن مقامی غیر احمدیوں کا خیال ہے کہ وہ پاک ہیں اور احمدی نجس ہیں وہ اپنے اور اپنے خاندانوں کے تمام افراد کے نام الگ لکھ لیں کیونکہ بعض ایسے غیر احمدی بھی ہیں جو یہ سوال نہیں اُٹھاتے وہ ای ہمارے ساتھ ہی دفن ہوتے رہے ہیں، ہوتے ہیں اور آئندہ ہونے کیلئے تیار ہیں، ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو احرار کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور انہی کی طرف سے یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے ایسے لوگ اپنے اور اپنے خاندانوں کے جملہ افراد کے نام لکھ کر حکومت کے حوالہ کر دیں اور لکھ دیں کہ وہ قبرستان میں ہمارے ساتھ دفن نہیں ہو سکتے۔احرار اپنی خرید کردہ زمین میں سے ایک