خطبات محمود (جلد 17) — Page 417
خطبات محمود ۴۱۷ سال ۱۹۳۶ امتیاز کیا تو وہ احمدیوں سے کیا کیونکہ توے فیصدی احمدی بچ گئے جبکہ نوے فیصدی دوسرے لوگ مر گئے۔پس اگر کسی امتیاز کا خدا تعالیٰ نے اظہار کیا تو احمدیوں کیلئے کیا اور انہیں دوسروں سے علیحدہ کر لیا باقی سب کو اکٹھا ہی دفن کر دیا۔تو یہ عجیب بات ہے کہ زندگی میں تو یہ لوگ ہمارے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں حتی کہ ہم پر یہ جھوٹا الزام لگاتے ہیں کہ ہم انہیں قادیان سے نکالنا چاہتے ہیں اور شکوہ کرتے ہیں کہ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ اگر احمدی واقعہ میں ان معنوں میں نجس ہیں جن میں احراری انہیں پیش کر رہے ہیں تو ان کو چاہئے تھا کہ خود بخود ہی پاؤں کی خاک جھاڑ کر یہاں سے نکل جاتے مگر زندگی میں تو وہ ہمارے ساتھ رہتے ہیں اور رہنے پر مصر ہیں جبکہ ہم ان پر اپنا اثر ڈال سکتے ہیں مگر مُردوں کا ایک جگہ دفن ہونا وہ گوارہ نہیں کر سکتے۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ احمدی مُردہ قبر میں احراری مُردے کو وفات مسیح کا قائل کرلے گا یا ختم نبوت کا مسئلہ سمجھا دے گا ؟ جہاں بقول ان کے ان کے ایمانوں میں خلل پڑسکتا ہے اور پڑتا رہتا ہے کیونکہ ہمیشہ ان کے آدمی تبلیغ سے متاثر ہو کر احمدیت میں داخل ہوتے رہتے ہیں وہاں تو ساتھ رہنے کیلئے زور لگاتے ہیں حتی کہ ساری دنیا تھی تو چھوڑ کر جلسوں کیلئے بھی احرار قادیان ہی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جس عالم میں احمدی ان کو اپنے عقیدہ سے پھر انہیں سکتے وہاں ان کی صحبت سے ڈرتے ہیں۔اگر ہمارے ساتھ رہنے کو یہ لوگ اپنے لئے اتنا ہی بُرا سمجھتے تو چاہئے تھا کہ لاہور میں احرار ایک جلسہ کر کے ہمارا شکر یہ ادا کرتے کہ یہ لوگ ہمارے بھائیوں کو گندی جگہ سے باہر لاتے اور ان کی روحانی زندگی کو خطرہ سے بچاتے ہیں نہ کہ خواہ مخواہ ہم پر یہ الزام لگا کر شور مچاتے کہ احمدی ہمیں قادیان سے نکالنا چاہتے ہیں۔پھر یہ امر قابل غور ہے کہ یہ پاکیزگی اور نجاست کا سوال اب کیوں پیدا ہوا۔احمدی تو برابر پچاس سال سے اس قبرستان میں دفن ہوتے آئے ہیں اور ان کے مُردے بھی وہیں دفن کی ہوتے رہے ہیں پھر پچاس سال کے بعد اب کونسی نئی پاکیزگی ان کے اندر پیدا ہوگئی ہے۔کیا وہ ای پاکیزگی احرار کا وجود ہی تو نہیں۔عجیب بات ہے کہ احرار کے یہاں آنے سے قبل یہ سوال پیدا نہیں ہوا بلکہ ان کے آنے کے بعد بھی نہیں ہوا اور ایک لمبے عرصہ کے بعد اب پیدا ہوا ہے جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اس کے پیدا ہونے کے موجب اور ہیں، اس کی پشت پر بعض اور لوگ ہیں جن کیلئے فتنہ کے اور سب دروازے بند ہو گئے تو انہوں نے یہ جھگڑا شروع کر دیا ورنہ پچاس سال تک یہ