خطبات محمود (جلد 17) — Page 392
خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۶ء والی ہیں وہ ابھی ہم نے نہیں بنا ئیں۔اس وجہ سے چور آتا اور ہمارا مال اٹھا کر لے جاتا ہے لیکن جب ہم اس قربانی کے نتیجہ میں اپنی چار دیواری کو مکمل کر لیں گے تو پھر چور کے داخل ہونے کے تما نی راستے مسدود ہو جائیں گے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ خود بھی اس سوال پر غور کریں اور جماعت کی عملی اصلاح کی تدبیریں سوچیں اور اگر ان کے ذہن میں کوئی تدبیر آئے تو وہ مجھے بتائیں۔جیسا کہ بعض دوست مجھے خطوط کے ذریعہ اطلاع دے رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہر ایک شخص کو یہ ارادہ کر لینا چاہئے کہ اگر دوبارہ اسے اس آگ میں کودنا پڑا جس آگ میں اُسے احمدیت کو قبول کرتے وقت کو دنا پڑا تھا تو وہ اس کیلئے خوشی سے تیار ہوگا۔وہ اس بات کیلئے تیار ہوگا کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ دے ، وہ اس بات کیلئے تیار ہوگا کہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ دے، وہ اس بات تیار ہوگا کہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کو چھوڑ دے مگر وہ اس بات کیلئے تیار نہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے احکام کا وہ حصہ عمل میں نہ لائے جس کو عمل میں لانے کا خدا نے حکم دیا ہے۔میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ ہمارے پاس اعمال کی اصلاح کا علاج موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنا مامور یو نہی تو نہیں بھیج دیا۔کس طرح ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہو مگر وہ تدابیر نہ بتائی ہوں جن سے لوگوں کے اعمال کی اصلاح ہو سکے۔اُس نے تدابیر بتائی ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت اس بات کا پختہ عہد کرے کہ وہ ان تدابیر کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہر قسم کی قربانی کرنے کیلئے تیار رہے گی۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اپنی جگہ عہد کریں کہ ہم ان تجاویز پر عمل کرنے کیلئے تیار ہیں چاہے دوبارہ ان کے خاندانوں کو الٹ پلٹ کر دیا جائے ، چاہے دوبارہ انہیں وہی قربانیاں کرنی پڑیں جو انہوں نے شروع میں احمدیت کو قبول کرتے وقت کیں پھر آپ لوگ دیکھیں گے کہ کسی طرح وہی عقدہ لا نخل جسے ہیں سال سے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ ابھی تک حل نہیں ہوا چند مہینوں میں حل ہو جاتا ہے یا کم سے کم اس کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے عقائد کی اصلاح کی نسبت عمل کی اصلاح کیلئے زیادہ جد و جہد کی ضرورت ہوتی اور لمبی قربانیوں کی حاجت ہوتی ہے کیونکہ گو اس کے بعض حصے صرف ارادہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر بعض حصے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں لا