خطبات محمود (جلد 17) — Page 391
خطبات محمود نقص آ جائے گا۔۳۹۱ سال ۱۹۳۶ء جیسے میں نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا تھا جس میں میں نے دیکھا کہ چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے اور وہ کسی طرح بجھنے میں نہیں آتی۔اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے گھبرایا ہوا دیکھ کر فرمایا فلاں جگہ آگ کی جڑ ہے اُسے دباؤ تو تمام آگیں خود بخود بجھ جائیں گی۔اسی طرح جب تک ہم بدیوں کی جڑ نہیں پکڑیں گے اور جب تک ہم اس بات پر تیار نہیں ہو جائیں گے کہ خواہ ہمیں اپنی بیویوں ، اپنے بیٹوں ، اپنی ماؤں ، اپنے باپوں ، اپنے بھائیوں ، اپنی بہنوں ، اپنے دوستوں ، اپنے عزیزوں اور اپنے رشتہ داروں سے الگ ہونا پڑے تو ہم الگ ہونے کیلئے تیار ہیں اُس وقت تک عملی اصلاح نہیں ہو سکتی۔عملی اصلاح کیلئے ہمیں وہی طریق اختیار کرنا پڑے گا جو ہر نبی کے زمانہ میں اختیار کیا جا تا ہے کہ خاوند کو بیوی سے، بیوی کو خاوند سے ، بچے کو ماں سے ، ماں کو بچے سے، بھائی کو بہن سے اور بہن کو بھائی سے الگ ہونا پڑتا ہے۔اس قربانی کو اختیار کئے بغیر اب چارہ نہیں کیونکہ اس کے بغیر احمدیت ایک تمسخررہ جاتی ہے لیکن جب ہم اس امتحان میں کامیاب ہو جائیں گے ، جب ہم خدا کیلئے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی جدائی کو برداشت کرلیں گے تو جیسا کہ خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ بچھڑے ہوؤں کو ملاتا ہے ہماری جماعت کے بچھڑے ہوئے عزیز بھی مل جائیں گے۔اگر خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے کسی وقت خاوند کو بیوی چھوڑنی پڑے یا بیوی کو خاوند چھوڑنا پڑے، ماں باپ کو بچے چھوڑنے پڑیں اور بچوں کو ماں باپ سے الگ ہونا پڑے اسی طرح بھائی بھائی سے اور بہن بہن سے خدا کیلئے جُدا ہو جائے تو یقینا اس سے ہمیں نقصان نہیں ہوگا بلکہ جب اس ابتلا میں ہماری جماعت کامیاب ہو جائے گی تو پھر خدا ماؤں ، باپوں ، بیویوں ، بھائیوں، بہنوں، بھانجیوں ، پھوپھیوں اور خالاؤں کو اکٹھا کر دے گا مگر وہ ایک دفعہ اس قربانی کو چاہتا ہے جو اعمال کی اصلاح کیلئے ضروری ہے۔ہم میں سے کتنے ہی ہیں جنہوں نے عقائد کی اصلاح کیلئے اپنے والدین کو چھوڑا ، کتنے ہی ہیں جنہوں نے اپنی بیویوں کو چھوڑا، کتنے ہی ہیں جنہوں نے اپنے بھائیوں اور بہنوں کو چھوڑا اور انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔اب اگر وہی قربانی ہماری جماعت عمل کی اصلاح کیلئے بھی کرے تو اس دوسری آزمائش کے بعد ہماری چار دیواری مکمل ہو جاتی ہے۔اب تک صرف دو دیوار میں عقائد والی ہیں دو دیوار میں جو عمل