خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 350

خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۶ء لوگوں کے حق مارتے دیکھتا ہے تو یہ بھی حق مارنے کی عادت اختیار کر لیتا ہے، جھوٹی قسمیں کھاتے ہے دیکھتا ہے تو یہ بھی جھوٹی قسمیں کھانے لگ جاتا ہے ، گالیاں دیتے دیکھتا ہے تو یہ بھی گالیاں دینے لگ جاتا ہے، نماز کا تارک دیکھتا ہے تو خود بھی نماز کا تارک بن جاتا ہے ، روزہ رکھتے نہیں دیکھتا تو اس میں بھی روزہ رکھنے کی عادت پیدا نہیں ہوتی ، گائے کا گوشت کھاتے دیکھتا ہے تو گائے کا گوشت کھانے کا عادی ہو جاتا ہے ، گائے کے گوشت سے نفرت کرتے دیکھتا ہے تو یہ بھی گائے کے گوشت سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے۔سردار فضل حق صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص صحابی تھے جو فوت ہو چکے ہیں وہ سکھوں کے ایک معزز خاندان اور رئیسوں میں سے تھے اُن کی چڑ ہی لوگوں نے یہ بنائی ہوئی تھی کہ سردار صاحب گائے کا گوشت لائیں یہ سنتے ہی سردار صاحب کو متلی ہونے کی لگتی۔بعض دفعہ لوگ انہیں زبر دستی گائے کی بوٹی کھلانے کی کوشش کرتے۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے جب مہمان خانہ میں وہ آگے آگے ہوتے اور لوگ پیچھے پیچھے اور لوگ انہیں کہتے آج تو آپ کو ایک بوٹی کھلا کر رہیں گے اور وہ کہتے خدا کیلئے مجھے نہ کھلا نا۔مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ شاید انہی کا واقعہ ہے یا کسی اور نو مسلم کا۔بہر حال یہ واقعہ ہے کہ ایک دفعہ انہیں یا کسی اور نومسلم کو بے خبری میں گائے کے گوشت کی ایک بوٹی کھلا دی گئی اور انہیں واقعہ میں قے آگئی۔یہ گائے کے گوشت کا ذکر سن کر قے آجانا کیا چیز ہے وہی بچپن کا اثر ہے جب انہیں گائے کے گوشت سے نفرت دلائی جاتی ورنہ گائے کے گوشت میں کیا رکھا ہے اور بکرے کے گوشت میں کیا۔تو عمل چونکہ نظر آنے والی چیز ہے اس لئے لوگ اس کی نقل کر لیتے ہیں اور یہ پیج پھر بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن عقیدہ چونکہ نظر آنے والی چیز نہیں اس لئے وہ اپنے دائرہ میں محدود رہتا ہے گویا عقیدہ ایک پیوندی درخت ہے کہ اسے خاص طور پر لگایا جائے تو لگتا ہے لیکن عمل کی مثال تخمی درخت کی سی ہے کہ آپ ہی آپ اس کا بیج زمین میں جڑ پکڑ کر اُگنے لگتا ہے۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کے عمل کی کی مثال اس بھٹ کٹیا کے پودے کی سی ہے جو ہوا سے لڑھکتا پھرتا ہے اور ہر جگہ اس کا بیج آپ ہی آپ اگتا چلا جاتا ہے اور اُس کا مٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔پس عقیدہ اور عمل میں یہ ایک بہت بڑا فرق ہے جس کی وجہ سے بُرے عقیدہ کا پھیلنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنابُرے عمل کا پھیلنا آسان ہوتا ہے۔