خطبات محمود (جلد 17) — Page 349
خطبات محمود ۳۴۹ سال ۱۹۳۶ کھاؤں۔یہ باسی روٹی کا مزہ نہیں تھا جو مجھے آیا بلکہ ایک نقل تھی جو میں نے کرنی چاہی۔تو بچپن میں نقل کی شدید عادت ہوتی ہے اور بغیر سمجھ کے بچہ کام کرتا چلا جاتا ہے اگر اسے نیک ماحول میں رکھ دیں تو وہ نیک کام کرتا چلا جائے گا اور اگر بُرے ماحول میں رکھ دیں تو وہ ی بُرے کام کرتا چلا جائے گا اور جب بڑے ہو کر لوگ اسے سمجھاتے ہیں اور کہتے ہی کہ یہ چیز بُری ہے اسے مت کرو تو اُس وقت وہ ان کے اختیار سے نکل چکا ہوتا ہے لیکن عقیدے میں یہ بات نہیں۔عقیدہ دماغ میں ہوتا ہے اور اس وجہ سے عقیدہ نظر نہیں آتا اس لئے عقیدہ میں دوسرے کی جی نقل نہیں ہوسکتی۔اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ خدا ایک نہیں بلکہ تین ہیں تو اردگرد کے بچوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا ہاں اگر وہ تبلیغ کر رہا ہو تو بچے زبان سے اُس کی نقل کرنے لگ جائیں گے اور شور مچاتے پھریں گے کہ خدا تین ہیں، خدا تین ہیں اور اگر وہ کسی کو کہتے سنیں گے کہ خدا کوئی نہیں تو وہ اس کی نقل کرنے لگ جائیں گے اور کہنے لگیں گے کہ خدا کوئی نہیں۔لیکن ان امور کے متعلق ان کے دل میں یقین پیدا نہیں ہو گا صرف ان کی زبانیں اسے دُہرا رہی ہوں گی کیونکہ وہ زبان کی بات سن کر اس کی نقل کرنے لگ جائیں گے اور دل کی حالت چونکہ ان پر عیاں نہ ہوگی اس کی نقل کرنے کی وہ کوشش نہ کریں گے۔غرض عمل کا تعلق چونکہ ظاہر سے ہے اس وجہ سے دوسروں کے عیوب کا جلدی اثر ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے چونکہ عیسائی کی تثلیث کا عقیدہ بچوں کے سامنے نہیں آئے گا کیونکہ وہ اس کے دماغ میں ہے وہ اس کی نقل نہیں کریں گے لیکن اس کی نکٹائی اور پتلون چونکہ بچوں کے سامنے ہوگی اس لئے وہ فوراً اس کی نقل کرنی شروع کر دیں گے اور جب بھی نکٹائی اور پتلون کا ذکر آئے گا وہ اس کیلئے بیتاب ہو جائیں گے۔اگر عقیدہ ظاہر کی چیز ہوتی تو بچے اس کی بھی نقل شروع کر دیتے مگر عقیدہ چونکہ مخفی چیز ہے اس لئے اس کی نقل کم ہوتی ہے اسے صرف علمی طور پر سمجھایا جا سکتا ہے اور علمی طور پر سمجھانا بچپن کے زمانہ سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ جوانی کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے اور اُس کی وقت بچہ اگر عقل سے کام لے تو مفید اور مضر بات میں فرق کر سکتا ہے۔پس انسانی فطرت میں چونکہ نقل کا مادہ رکھا گیا ہے اس لئے اگر بچہ اپنے ارد گر دلوگوں کو جھوٹ بولتے دیکھتا ہے تو وہ جھوٹ بولنے لگ جاتا ہے ، اگر چوری کرتے دیکھتا ہے تو چوری کرنے لگ جاتا ہے، دوسروں کو