خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 351

خطبات محمود ۳۵۱ سال ۱۹۳۶ء تیسرا سبب یہ ہے کہ عقیدہ آجل اُمور سے تعلق رکھتا ہے لیکن عمل ایسے امور سے تعلق رکھتا ہے جو عاجل ہوتے ہیں۔مثلاً یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا اس عملی حالت سے کوئی تعلق نہیں۔جب ایک سنار زیور تیار کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس میں کھوٹ ملاؤں یا نہ ملاؤں کیونکہ کھوٹ ملانے یا نہ ملانے کا تعلق اُس کی شام کی روٹی کے ساتھ ہے۔پس وہ اپنے قریب کے فائدے کو دیکھ کر ایک راہ عمل اختیار کر لیتا ہے۔یا مثلاً یہ سوال کہ مرنے کے بعد کی زندگی ہے ؟ نہیں۔بڑی ڈور کا سوال ہے ، فرشتے ہوتے ہیں یہ بھی دور کی بات ہے، اللہ تعالیٰ کے نبی سچے ہوتے ہیں اور ان کی باتیں ماننے میں انسان کا اپنا فائدہ ہوتا ہے یہ بھی دور کا سوال ہے، خدا کا کلام انسان پر اُترتا ہے یہ بھی بہت دور کی بات ہے ، نجات کس کو ملے گی یہ بھی کوئی قریب کا سوال نہیں لیکن ایک سنار کیلئے یہ بالکل قریب کا سوال ہے کہ ایک شخص جو دو روپے کی چاندی دے گیا ہے میں اسے دو روپیہ کی چاندی کی صورت میں ہی واپس کروں یا پونے دو روپیہ کی چاندی میں چار آنہ کا کھوٹ ملا کر واپس کروں کیونکہ اس سوال کا تعلق اُس کی شام کی روٹی اور اُس کی بیوی بچوں کے کپڑوں کے ساتھ ہے۔یہ سوچتا ہے کہ اگر میں اس میں کھوٹ ملا دوں تو میری شام کی روٹی کا سوال حل ہو جاتا ہے مگر خدا ایک ہے اِس سے اُس کی روٹی یا بیوی بچوں کے کپڑوں کا سوال بظا ہر حل نہیں ہوسکتا۔تو عقیدے کا تعلق دور کے امور سے ہوتا ہے اور عمل کا تعلق قریب کے امور سے ہوتا ہے یعنی عمل کا اثر دنیا کے معاملات پر پڑتا ہے اور عقیدے کا اثر انسان کے ذہنی اثرات اور اُس کی روح پر پڑتا ہے اس لئے عقیدہ کی اصلاح میں دُنیوی ضروریات حائل نہیں ہوتیں لیکن عمل کی اصلاح کے راستہ میں دنیوی ضروریات حائل ہو جاتی ہیں۔ایک شخص جوش میں آتا ہے اور دوسرے شخص سے لڑ پڑتا ہے اتفاقاً زور سے اُس کا ہاتھ اُس کے دل پر لگتا ہے اور وہ ی مرجاتا ہے وہ دونوں ایک جگہ اکیلے ہوتے ہیں اُس وقت عاجل اور فوری طور پر اُس کے دل میں خیال آتا ہے کہ میں چُپ کر کے یہاں سے کھسک جاتا ہوں کسی کو کیا پتہ ہے کہ میں نے اسے مارا ہے اگر پکڑا جاؤں گا تو کہہ دوں گا مجھے کیا پتہ اس کو کس نے مارا ہے۔گویا جھوٹ اور فریب کا عاجل فائدہ اس کے سامنے آجاتا اور وہ اس میں گرفتار ہو جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی توحید سے اس کا اس طرح ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ٹکراؤ اگر ہوتا ہے تو جھوٹ کے ساتھ۔یا مثلاً غیبت ہے ایک افسر اس