خطبات محمود (جلد 17) — Page 327
خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۶ء پورا اثر نہیں ہوا۔یہ فرق کیوں ہے؟ جس دماغ پر ایک بات نازل ہوئی ہے اُسی دماغ پر دوسری بات بھی نازل ہوئی پھر کیا وجہ ہے کہ عملی حصہ کمزور ہے۔اس پر اگر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ضر ور نقص ہمارے اندرہی ہے مگر وہ کیا نقص ہے اور اس کے ازالہ کی کیا تدابیر ہیں؟ اس پر غور کرو اور اپنے ذہن میں وہ تدبیریں سوچو جن سے اس نقص کا ازالہ ہو سکے تا تمہارے نفس میں عملی حصہ کی اہمیت کا احساس ہو اور تم میں اس صورتِ حالات کو بدل دینے کی خواہش پیدا ہو۔پھر میں بھی اِنْشَاءَ الله اپنے خیالات ظاہر کروں گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ لوگ جو مخلص ہیں وہ میرے ساتھ تعاون کریں اور ان باتوں کے پورا کرنے میں میری مدد کریں گے تا ہماری جماعت کی اعتراض آتا ہے اسے ہم دور کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کوئی بعید بات نہیں۔اگر ہم بچے طور پر بعض تدابیر اختیار کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں اس حصہ میں بھی ویسی ہی کامیابی حاصل نہ ہو جیسے عقائد کے بارہ میں ہمیں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔در حقیقت ہمارے لئے وہی خوشی کا دن ہوگا جب ہمارا عقیدہ اور عمل دونوں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق ہوں گے کیونکہ عقیدہ بغیر عمل کے کچھ نہیں جیسے عمل بغیر عقیدہ کے کچھ نہیں۔ک پر جو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان نقائص کو سمجھ سکیں جن کی وجہ سے اب تک ہمیں پوری کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، اور وہ تدابیر اپنے فضل سے سمجھائے جن پر عمل کرنے سے کامیابی عطا ہو اور ہمیں ایسے مخلص بندے دے جن کے دل ہر قسم کے بغض ، کینہ اور کپٹ سے پاک ہوں اور وہ ان تدابیر کوعملی جامہ پہنانے کیلئے اپنی زندگیاں وقت کر دیں اور وہ دن لانے کی کوشش کریں جس میں مؤمن کی جنت اس کے قریب آجاتی ہے۔یعنی عقیدہ اور عمل دونوں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو جاتے ہیں۔( الفضل ۲۹ رمئی ۱۹۳۶ ء ) ل آل عمران: ۵۶ بخارى كتاب الاذان باب فضل صلاة العشاء في الجماعة