خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 326

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ء اور یاد رکھو کہ عزت وہ نہیں جو دنیا کے مال و دولت سے ملتی ہے اگر مال و دولت کی وجہ سے ہی عزت و ملتی تو بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ظلی نبوت ملنے کے جو ایک معمولی گاؤں کے رہنے والے تھے چاہئے تھا کہ راتھ شیلڈ یا راک فیلر یا انگلستان اور امریکہ کے دوسرے کروڑ پتیوں کو یہ منصب ملتا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں چنا بلکہ تمام ممالک میں سے ہندوستان کو پچھنا جو ہر ملک سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے تھا۔اور ہندوستان میں سے بھی صوبہ پنجاب کو چنا جو تمام صوبوں کے مقابلہ میں ادنی کی تھا۔اور صوبہ پنجاب میں سے بھی ضلع گورداسپور کو چنا جو تمام ضلعوں میں سے خراب سمجھا جاتا تھا اور ضلع گورداسپور میں سے بھی قادیان کو بچنا جو تمام دیہات میں سے ایک معمولی دیہہ تھا اور قادیان میں سے بھی ایسے فرد کو چنا جو اپنے خاندان میں بھی غیر معروف تھا۔تم بھی خدا تعالیٰ کے انتخاب کو سامنے رکھا کرو اور دیکھا کرو کہ اللہ تعالیٰ کس بناء پر انتخاب کیا کرتا ہے۔تم بھی کسی کو اس لئے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری مت بناؤ کہ وہ بڑی توند والا ہے یا بڑی دولت والا ہے یا بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے بلکہ تم اُس کو پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بناؤ جو واقعہ میں سلسلہ کا درد رکھنے والا ہو اور اسلام کی تڑپ اپنے سینہ میں رکھتا ہوا ایسا شخص کام بھی کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کا بھی وارث ہوگا۔غرض عملی زندگی میں ہمیں بہت سی کمزوریاں نظر آتی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سوچیں ان کی اصلاح کی کیا تدابیر ہیں اور کیا مشکلات ہمارے راستہ میں حائل ہیں مگر میں آج ان تدابیر کو بیان نہیں کر سکتا کیونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اور میری طبیعت بھی کمزور ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں میں اس مضمون کا بقیہ حصہ بیان کرنے کی کوشش کروں گا مگر اُس وقت تک کی جماعت کے مخلصوں کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ پر غور کریں۔جو تغیر عقائد کے متعلق میں نے بتایا ہے وہ کتنا عظیم الشان ہے۔آج سے چالیس سال پہلے جن باتوں کو لوگ کفر قرار دیتے تھے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے ماتحت خود وہی لوگ ان باتوں کو مان رہے ہیں۔اس سے قیاس کرلو کہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو عمل کے متعلق تعلیم ہے وہ ویسی زبر دست ثابت نہ ہو۔اس پر اتنے دن غور کرو اور سوچو کہ اس کی کیا وجہ ہے۔آیا یہ ہمارے کسی نقص کی وجہ سے ہے یا یہ تعلیم کا نقص ہے یا ذرائع کا نقص ہے کہ عقائد کی تعلیم کی تو یہ حالت ہے کہ کافر کہنے والے بھی اسے تسلیم کر رہے ہیں اور عملی تعلیم اتنی کمزور ہے کہ اپنوں پر بھی ابھی اس کا