خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 288

خطبات محمود ۲۸۸ سال ۱۹۳۶ء حالانکہ یہ ہتھکنڈے تو شیطان کے حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے شروع ہیں اور جس۔قرآن مجید پڑھا ہوا ہو وہ آدم کے وقت کی بات سے آج دھوکا نہیں کھا سکتا۔میں گو آدم کے وقت میں نہیں تھا مگر قرآن کریم کے ذریعہ میں آدم کے وقت میں بھی تھا۔میں پیدا بعد میں ہوا مگر قرآن کریم کے ذریعہ میں نوح کے ساتھ بھی تھا، میں ابراہیم کے ساتھ بھی تھا، میں موسیٰ کے ساتھ بھی تھا، میں داوڑ کے ساتھ بھی تھا ، میں سلیمان کے ساتھ بھی تھا ، میں عیسی کے ساتھ بھی تھا اور میں رسول کریم اللہ کے ساتھ بھی تھا۔میں نے سب مخالفوں کو دیکھا ہے اور میں کہتا ہوں کہ یہ اپنی ان کی چالوں کی وجہ سے جو انہوں نے پہلے انبیاء کے وقت اختیار کیں مجھے دھوکا نہیں دے سکتے۔ہاں میں منافقوں کو جانتا ہوں اور بیسیوں منافقوں کو جانتا ہوں۔ان کو جانتا ہوں اس الہی علم کے ذریعہ سے جو مجھے عطا کیا گیا ، ان کو جانتا ہوں ان کشوف اور رویا کے ذریعہ سے جو مجھے دکھائے گئے۔پھر کئی ہیں جن کو علم ادراک کے ذریعہ جانتا ہوں۔ایک شخص میرے ساتھ بات کرتا ہے اور میری روح اس کی روح سے ٹکرا کر معلوم کر لیتی ہے کہ یہ منافق کی روح ہے۔پھر کئی ہیں جن کو ایسی شہادتوں سے جانتا ہوں جو معقول ہوتی ہیں اور قرآنی اصول کے مطابق صحیح ہوتی ہیں۔اس کے سوا جتنی باتیں بیان کی جاتی ہیں میں جانتا ہوں کہ وہ غلط ہیں۔پس میں ان باتوں سے کیوں ڈروں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان اپنے اولیاء کو ڈرایا کرتا ہے۔پس جبکہ شیطان اپنے اولیاء کو ڈراتا ہے تو میں شیطان اور اس کے چیلوں سے کیوں ڈروں۔پس بے شک قادیان میں منافق ہیں اور باہر بھی منافق ہیں جو یہاں سے بھاگ کر گئے ہیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض بڑے بڑے مخلص بن کر دوسروں کو بہکاتے ہیں اور پھر جب گرفت کی جائے تو دلائل بھی دیتے ہیں جیسا عبداللہ بن ابی بن سلول اور دوسرے منافقین کا حال تھا۔مگر قرآن مجید نے منافقین کی پہچان کیلئے بعض معیار بھی بتا دیئے ہیں اور وہ اتنے کھلے معیار ہیں کہ ہر شخص ان کے ذریعہ منافق کا علم حاصل کر سکتا ہے۔مگر لوگ عموماً اپنے جذبات کے تابع رہتے ہیں جس کی وجہ سے وہ منافقین کی کو نہیں دیکھ سکتے ورنہ اگر وہ اپنے آپ کو قرآن مجید کے تابع کر لیں تو انہیں ایسا نور مل جائے جس کی مدد سے وہ مؤمنوں اور منافقوں میں تمیز کر سکیں لیکن چونکہ وہ جذبات کے تابع رہتے ہیں قرآن مجید کے تابع اپنے آپ کو نہیں کرتے اس لئے وہ اُس نور سے محروم رہتے ہیں جس سے