خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 289

خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۶ منافقوں کو پہچانا جاسکتا ہے۔پس میرے لئے منافقوں کو پہچاننا ایسا ہی آسان ہے جیسے زرد او سرخ رنگ کا معلوم کرنا اس لئے کہ قرآن مجید نے وہ اصول اور گر بتا دیئے ہیں جن سے منافقین کو پہچانا جاسکتا ہے۔قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ شخص جو مؤمنوں کی مصیبت پر خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے دیکھا ! میں نے نہیں کہا تھا اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا وہ منافق ہے۔قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ شخص منافق ہے جو قسمیں بہت کھاتا ہے ، قرآن نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ لوگ جو مخلصین پر اعتراض کرتے اور مخالفین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہ منافق ہیں ، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ وہ شخص جو قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتا اور لوگوں کو بھی ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور عذر تراشنے اور بہانے بنانے لگ جاتا ہے وہ منافق ہے، قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جو شخص اپنی پرائیویٹ مجالس میں نظام پر اعتراض کرے اور کہے کہ قربانیوں سے جماعت تباہ ہوتی جارہی ہے وہ منافق ہے، غرض کئی علامتیں ہیں جو قرآن کریم نے ہمیں بتا ئیں۔اگر کبھی منافقوں کے متعلق میں نے کوئی مضمون بیان کی کیا تو اس میں بہت سی علامتوں کا ذکر کروں گا مگر یہ موٹی موٹی باتیں ہیں اور ان سے اسی طرح منافقوں کو پہچانا جاسکتا ہے جس طرح روزِ روشن میں انسان ہر چیز کو دیکھ سکتا ہے۔مگر وہ لوگ ای جو جذبات کے تابع ہوں جن کے دوست میں اگر کوئی عیب ہو تو وہ انہیں نظر نہ آئے لیکن اگر ان کا کی کوئی دشمن ہو تو فوراً وہ عیب انہیں اس میں نظر آنے لگے۔ان کی نگاہوں سے منافق پوشیدہ رہتے ہیں صرف وہی منافقین کو پہچان سکتے ہیں جو ہر قسم کے بغض ، کینہ، حسد اور تمام اندرونی آلائشوں سےصاف ہوں۔تب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور ملتا ہے اور وہ نگاہ عطا کی جاتی ہے جس سے وہ منافقوں کو پہچان لیتے ہیں۔ان ہی منافقوں میں سے ایک نے یہ خبر میرے متعلق شائع کی ہے وہ مجھے چیلنج دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میاں صاحب ذرا ثابت تو کریں کہ جب سے وہ خلیفہ ہوئے ہیں انہوں نے جمعہ کے سوا کوئی نماز مسجد میں پڑھی ہو۔اس امر کو اس شخص نے اس رنگ میں پیش کیا ہے کہ ناواقف سمجھے کہ اتنا جھوٹ تو کوئی بول نہیں سکتا ضرور یہ بات سچ ہوگی لیکن ہر قادیان کا رہنے والا اور اکثر لوگ جو باہر سے آتے رہتے ہیں جانتے ہیں کہ اس شخص نے اول درجہ کا افتراء کیا ہے۔ایسا افتراء کہ خود