خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 287

خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۶ء اور اُسے مارڈالیں گے اب بھاگتے کیوں ہو؟ وہ کہنے لگے سب کچھ طے ہو گیا تھا مگر میاؤں پکڑ۔کا تو کسی نے وعدہ نہیں کیا تھا۔یہی حال منافقین کا ہے وہ بھی جانیں قربان کرنے کا اعلان کرتے ہی ہیں مگر میاؤں سے بھاگ جاتے ہیں اور اتنی جرات نہیں کرتے کہ ہمارے کسی آدمی کے کان کو اپنے قریب آنے دیں۔ہاں زبان سے یہ دعوے بھی کئے چلے جاتے ہیں کہ ہم جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ قادیان میں منافق ہیں اور یقینا وہ منافقانہ چالیں چلتے ہیں کی لیکن یہ جو کہا جاتا ہے کہ وہ میٹنگ کرتے ہیں اور قادیان کے اکثر افراد منافق ہیں یہ محض جھوٹ اور افتراء ہوتا ہے۔نہ کوئی میٹنگ ہوتی ہے نہ اور ایسی بات ہوتی ہے لیکن ان کی غرض اس قسم کی خبروں سے یہ ہوتی ہے کہ اس قسم کی میٹنگوں کی خبریں پڑھ کر لوگ گھبرا جائیں گے اور کہیں گے اللهُ أَكْبَرُ نہ معلوم اب کیا ہونے والا ہے۔پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یونہی نام لے دیتے ہیں۔مثلاً گزشتہ دنوں میں ایک شخص نے کہا کہ اب میں مرزائیوں کو بتادوں گا کہ میرے اخبار میں چوہدری فتح محمد صاحب اور خان صاحب فرزند علی خود مضامین بھجوایا کرتے تھے اور میں تو ان کے چربے نکال کر اخبار میں دے دوں گا مگر کیا کچھ بھی نہ۔اسی طرح جب شروع شروع میں شکایات کا یہ سلسلہ شروع ہوا تو ہر ایک کے متعلق میرے پاس کوئی نہ کوئی خبر پہنچتی تھی اور کوئی ایسا نہ تھا جس کی منافقت کی اطلاع انہوں نے میرے پاس نہ بھجوائی ہو۔میرے بھائیوں کے متعلق کہا گیا کہ وہ منافق ہیں ، میرے بیٹوں کے متعلق کہا گیا کہ وہ منافق ہیں ، میری بیویوں کے متعلق کہا گیا کہ وہ منافق ہیں ، سلسلہ کے تمام ناظروں ، سلسلہ کے قریباً تمام افسروں اور ان تمام کارکنوں کے متعلق جن کی کچھ بھی سلسلہ کی خدمات تھیں مجھے لکھا گیا کہ وہ منافق ہیں اور اس رنگ میں اطلاع دی جاتی کہ گویا ایک قیمتی راز ہے جو میرے پاس پہنچایا ہے جا رہا ہے۔کئی لوگ جنہیں ان باتوں میں سے انفرادی طور پر کسی کے متعلق کوئی اطلاع پہنچتی تو وہ دوڑتے ہوئے میرے پاس آتے اور کہتے کہ فلاں کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ وہ منافق ہے۔میں کہتا جانے دو تمہارے متعلق بھی منافقت کی اطلاع میرے پاس پہنچی ہوئی ہے۔اس سے منافقوں کی غرض یہ ہوا کرتی تھی کہ شاید میں ان کی چالوں میں آجاؤں گا اور سب کو منافق تسلیم کرلوں گا