خطبات محمود (جلد 17) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۶ء کی رسموں، شادی بیاہ کے طریقوں اور تمدن و معاشرت کے مروجہ دستور پر نو جو ان لیکچر دیتے پھریں تو اسی سے وہ کافی روپیہ کما سکتے ہیں۔کیونکہ غیر ملکوں کے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ہندوستانی کس طرح شادیاں کرتے ہیں، ان کے کھانے پینے کا کیا طریق ہے مجلسی قوانین ان میں کیا ہیں، بے شک کوئی شخص ان تمام باتوں کو سیکھ کر یورپین ممالک میں چلا جائے وہاں کے لوگوں میں وہ عالم کی سمجھا جائے گا۔یورپ کے علماء کا ایک طبقہ وہ ہے جو فوک لو (FOLK LORE) سے یعنی پرانے قصوں کے واقف ہیں۔کسی کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے قصے یاد رکھتا ہے، کسی کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے قصے یاد رکھتا ہے۔پس جو چیز لوگ نہیں جانتے اُسے علم کہا جاتا ہے اور اُس کی قدر کی جاتی ہے۔پس ہندوستان کے حالات اور اس کے رسم ورواج کی واقفیت بہم پہنچا کر بھی بعض ملکوں میں روزی کمائی جاسکتی ہے۔اسی طرح ہندوستان میں سے کئی لوگ یورپین کی ممالک میں جاتے اور دیسی دواؤں سے بہت بڑا روپیہ کمالیتے ہیں۔بعض قسم کے امراض دنیا میں ایسے ہیں کہ دنیا خیال کرتی ہے کہ ان کا علاج ہندوستان میں بہتر ہوتا ہے۔پس اگر ان امراض کو معلوم کر کے اس قسم کی دوائیں ساتھ رکھی جائیں تو بہت سے لوگ بیرونی ممالک میں وہ دوائیں لینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک کے راول باہر جاتے اور ہر جگہ کماتے پھرتے ہیں۔اور تو اور ہمارے ایک احمدی را ول ہیں انہوں نے یہ سنایا کہ وہ ایک دفعہ امریکہ گئے وہ آنکھوں کا کی آپریشن کرنا جانتے تھے۔وہاں انہوں نے یہ کام کرنا چاہا تو لوگوں نے بتایا کہ اس جگہ قانو نا ان آنکھوں کے آپریشن کی آپ کو ممانعت ہے کیونکہ آپ یو نیورسٹی کے سند یافتہ نہیں۔انہوں نے کہا ہم کیا کریں ہم تو یہی ہنر جانتے ہیں۔آخر ایک دن وہ بیٹھے ہوئے حقہ پی رہے تھے کہ ایک شخص آیا امریکہ میں چونکہ حقہ نہیں ہوتا سگار یا سگریٹ ہوتا ہے اس لئے اس نے حیران ہوکر پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتا یا حقہ ہے۔کہنے لگا اس میں سے آواز بھی آتی ہے؟ وہ کہنے لگا ہاں جب حقہ پیا جاتا ہے تو گرد گڑ کی آواز پیدا ہوتی ہے۔وہ کہنے لگا اچھا مجھے ٹھیکہ دو میں تمہیں سٹیج بنا دیتا ہوں۔تم وہاں بیٹھ کر حقہ پیا کرو میں ٹکٹ لگا دوں گا لوگ آئیں گے اور تمہیں حقہ پیتے دیکھیں گے۔یہ مان گئے۔اُس نے سٹیج بنا کر اُس پر انہیں بٹھا دیا اور انہوں نے حقہ پینا شروع کر دیا۔لوگ آتے اور انہیں حقہ پیتے دیکھ کر بڑے حیران ہوتے۔کوئی کہتا کہ یہ گڑ گڑ کی آواز کہاں سے آتی ہے، کوئی کہتا ہے