خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۳۶ء یہ لمبی لمبی کیا چیز ہے، کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ۔انہوں نے بتایا اس ذریعہ سے اُس نے سینکڑوں روپے کمائے اور سینکڑوں ہمیں دیئے۔حالانکہ حقہ بالکل معمولی چیز ہے۔ہندوستان میں اگر کوئی کی کسی سے کہے کہ میں حقہ پیتا ہوں تم مجھے پیسہ دو تو وہ پیسہ دینے کی بجائے اُسے چپیڑ مارے گا اور کہے گا کہ تم مجھ سے تمسخر کرتے ہو۔مگر انہوں نے بتایا کہ ہم مہینوں وہاں رہے ہمارا کام یہی تھا کہ ہم روزانہ حقہ لے کر سٹیج پر بیٹھ جاتے اور لوگ ٹکٹ لے کر ہمیں حقہ پیتے دیکھتے۔ان کا بیان ہے کہ جب ہم زبان سے واقف ہوئے تو معلوم ہوا کہ بعض لوگ ہمیں جانور خیال کرتے رہے اور سمجھتے رہے کہ ہندوستان کا کوئی بندر یا ایسا ہی کوئی جانور عجیب قسم کا سگار استعمال کرتا ہے۔غرض ہر مملک والوں کیلئے غیر ملک کی چیز اچنبھا ہوتی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی چیز سے روپیہ کمایا جا سکتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تم بھی غیر ملکوں میں نکل کر اس قسم کا تماشہ کرو بلکہ میرا یہ مطلب ہے کہ غیر ملکوں میں ادنیٰ سے ادنی چیز بھی اچنبھا معلوم ہوتی ہے اور اپنی چیز کو اچنبھا بنانا کوئی مشکل نہیں ہوتا صرف لوگوں میں رو چلانے کی دیر ہوتی ہے۔آج سے پندرہ بیس سال پہلے ہندوستانی عطر خود ہندوستانیوں نے چھوڑ دیئے تھے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ یہ تیل ہوتا ہے اور کپڑے پر اس کا داغ کی لگ جاتا ہے لیکن پچھلے سات آٹھ سال سے یورپ میں بھی ہندوستانی عطر پکنے لگ گیا ہے اور وہاں کی کے لوگ کہتے ہیں کہ اِن عطروں میں طاقت ہوتی ہے۔ہمارے ہندوستانی تو اسے کپڑوں پر لگانے سے دریغ کرتے ہیں انہوں نے اب اس عطر کو جسم پر مل مل کر نہانا شروع کر دیا ہے۔پس دنیا کے اکثر کام ایک رو کے ماتحت ہوتے ہیں جب رو چل جائے تو وہ طبائع میں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔دیکھ لو ہندوستان میں کپڑے موجود تھے، یہاں کپڑے بننے کے کارخانے بھی تھے مگر جب انگریز آئے تو انہوں نے یہ رو چلا دی کہ ہندوستان کے کپڑے اچھے نہیں ہوتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانیوں نے خود اپنے کپڑے پھینک دیئے اور غیر ملکوں کے کپڑے پہنے شروع کر دیئے۔گویا ایک مسمریزم کا عمل ہے جو دنیا میں کیا جاتا ہے۔کسی کو تم یقین دلا دو کہ فلاں چیز مفید ہے وہ اسے مفید سمجھنے لگ جائے گا اور کسی کو تم یقین دلا دو کہ فلاں چیز مُضر ہے وہ اسے مُضر سمجھنے لگ جائے گا۔پس دنیا کا بیشتر حصہ مسمریزم کے عمل کے ماتحت ہے۔ایک کو یقین دلا دو کہ فلاں چیز اچھی ہے وہ اسے اچھی کہنے لگ جائے گا۔اور اگر یقین دلا دو کہ یہ خراب ہے تو وہ اسے