خطبات محمود (جلد 17) — Page 21
خطبات محمود ۲۱ سال ۱۹۳۶ء اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہاں کے لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ اپنے مُلک کا بڑا آدمی کی ہے حالانکہ ہندوستان میں اُس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جدید چیز لوگوں کیلئے لذیذ ہوتی ہے۔تم کسی ہندوستانی کے سامنے یہ کہنے لگ جاؤ کہ لاہور ایک مشہور شہر ہے ، اس میں اتنے کالج ، اتنے مدر سے اور اتنی در سگا ہیں ہیں، اس کے تاریخی مقامات فلاں فلاں ہیں ، اتنے باغ ہیں، چارلاکھ کی آبادی ہے تو کوئی اسے دلچسپی سے نہیں سنے گا بلکہ کہیں گے پاگل ہو گیا یہ ہمیں کیا بتا رہا ہے۔مگر یہی لیکچر اگر تم امریکہ میں دیتے ہو اور ہندوستان کے شہروں کی کیفیت بتاتے ہو تو وہاں دلچسپ موضوع بن جائے گا کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ لاہور کیسا ہے، کلکتہ کیسا ہے، بمبئی کیسا تی ہے، پشاور کیسا ہے۔جس طرح امریکہ والوں کے سامنے اگر تم نیو یارک کے حالات بیان کرو تو وہ کی اسے فضول بات سمجھیں گے اسی طرح ہندوستانیوں کے سامنے ہندوستان کے شہروں کے حالات بیان کرو تو وہ فضول سمجھیں گے لیکن نئی چیز پیش کرو تو ہر کوئی اسے توجہ سے سنے گا۔جیسے لنڈن والوں کے سامنے اگر لنڈن کے حالات بیان کئے جائیں تو کوئی نہیں سنے گا لیکن کسی ہندوستانی کے سامنے بیان کئے جائیں تو وہ بڑی توجہ سے سنے گا اور دلچسپی لے گا۔تو جو چیز سامنے ہو اُس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جو چیز سامنے نہ ہو اور جس کا علم نہ ہو اُس کے متعلق حالات سننا ہر شخص پسند کرتا ہے۔تم ہندوستانیوں کے سامنے ہندوستان کے حالات بیان کر کے عزت حاصل نہیں کر سکتے لیکن اگر امریکہ میں ہندوستان کے شہروں اور ہندوستانیوں کی رسوم پر لیکچر دو، یہ بتاؤ کہ ہندوستان میں شادیاں کس طرح ہوتی ہیں، دولہا کس طرح بنتا ہے، سہرا کس طرح باندھا جاتا ہے تو وہاں یہی کی باتیں لوگ پیسے دے دے کر سُنیں گے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ہندوستان میں شادیاں کس طرح ی ہوتی ہیں۔تم کسی ہندوستانی مجلس میں پلاؤ کے پکنے کا طریق بیان کرنے لگو تو لوگ اس بات کو فضول گوئی قرار دیں گے لیکن اگر تم امریکہ میں لیکچر دیتے ہو کہ ہندوستان میں ایک کھانا پلاؤ ہوتا ہی ہے اور وہ اس اس طرح پکایا جاتا ہے، اس کا ذائقہ ایسا ایسا ہوتا ہے تو یہی باتیں وہ تمہیں روپے کی دے کر تم سے سنیں گے کیونکہ علم نام ہی اس چیز کا ہے جسے لوگ نہ جانتے ہوں۔وہاں کے لوگ ہندوستانیوں کی رسوم کو نہیں جانتے نہ یہ جانتے ہیں کہ یہ کھاتے پیتے کیا ہیں اس لئے وہ ان باتوں کو توجہ سے سنتے بلکہ روپیہ خرچ کر کے سنتے ہیں۔اور میں تو سمجھتا ہوں اگر لوگ صرف ہندوستانیوں