خطبات محمود (جلد 17) — Page 216
خطبات محمود ۲۱۶ سال ۱۹۳۶ء شروع کر دیتی ہیں جیسے ہیضہ ہے، چیچک ہے، انفلوئنزا ہے، محرقہ ہے، طاعون ہے یہ مرضیں ایسی ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک دن کوئی تین دن ، کوئی سات دن اور کوئی پندرہ دن پہلے سے اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے مگر اس اثر کا علم نہیں ہوتا یہاں تک کہ خون کے ذریعہ وہ زہر تمام جسم میں سرایت کر جاتا ہے اور اُس وقت بیماری کا علم ہوتا ہے جب بیماری جسم پر اپنا قبضہ جمالیتی ہے اور انسان کی کیلئے اس سے بھاگنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔شیطان بھی ان راہوں سے آتا ہے جن راہوں کا انسان کو علم نہیں ہوتا اور جب ہوتا ہے تو اُس وقت ہوتا ہے بلکہ یوں کہو کہ اُس کے ساتھیوں کو علم ہوتا ہے جب شیطان اس پر پوری طرح قبضہ جمالیتا ہے۔چونکہ دنیوی بیماریوں اور روحانی بیماریوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ دُنیوی بیمار خود بھی محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں بیمار ہوں لیکن روحانی بیماری یہ سمجھتا ہے کہ میں اچھا ہوں اور مجھے بیمار کہنے والے غلطی خوردہ ہیں۔گویا اُسے ایک قسم کا جنون ہوتا ہے ہے۔جس طرح پاگل سمجھتا ہے کہ میں پاگل نہیں بلکہ دوسرے لوگ پاگل ہیں اسی طرح وہ سمجھتا ہے کہ میں بیمار نہیں بلکہ مجھے بیمار کہنے والے خود بیمار ہیں۔تو یوں سمجھنا چاہئے کہ جب شیطان انسان پر ای قبضہ کر لے تو اس کے دوستوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بیمار ہے مگر خود اپنے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ میں بالکل اچھا ہوں۔پس ہماری جماعت کو اپنے نفس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ہر شخص جو تکبر کرتا ہے ہے اور اپنے آپ کو محفوظ اور مصون سمجھتا ہے وہ سمجھے کہ وہ موت کی طرف جا رہا ہے۔مؤمن کبھی بھی خدا تعالیٰ کی خشیت اور اس کے خوف سے خالی نہیں ہوا۔رسول کریم ﷺ کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ جب رات کو اُٹھتے تو اتنے عجز اور انکسار سے دعائیں کرتے کہ صحابہ کہتے ہیں کہ بعض دفعہ ہمیں رحم آجاتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ معاف کر دیا ہے آپ کی نجات تو اعمال سے ہو گی آپ نے ی فرما ی عائشہ میری نجات بھی خدا تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے سے۔پس جب رسول کریم ﷺ کی یہ حالت تھی تو اور کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں خدا تعالیٰ کے ابتلاء اور اس کی آزمائشوں سے بچ گیا ہوں۔بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہم جب رسول کریم ﷺ کو دعائیں کرتے دیکھتے تو ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ ایک ہنڈیا جوش سے اُبل رہی ہے۔پس اپنے نفوس کی