خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 217

خطبات محمود ۲۱۷ سال ۱۹۳۶ء اصلاح کی طرف توجہ کرو اور تقویٰ و طہارت پیدا کرو اور مت سمجھو کہ تم نیک کام کر رہے ہو کیونکہ ی نیک سے نیک کام میں بھی بے ایمانی پیدا ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ نہ معلوم کیا بات ہے کہ آجکل لوگ حج کر کے آتے ہیں تو ان کے قلوب میں آگے سے زیادہ رعونت اور بدی پیدا ہو چکی ہوتی ہے یہ نقص اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ حج کے مفہوم کو نہیں سمجھتے اور بجائے روحانی لحاظ سے کوئی فائدہ اُٹھانے کے محض حاجی بن جانے کی وجہ سے تکبر کرنے لگی جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی آپ ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بُڑھیا سردی کے دنوں کی میں رات کے وقت اسٹیشن پر تنہا بیٹھی تھی کہ کسی نے اُس کی چادر اٹھالی جب اسے سردی لگی اور اُس نے چادر اوڑھنی چاہی تو اسے گم پایا۔یہ دیکھ کر وہ آواز دے کر کہنے لگی ” بھائی حاجیا ! میری تے اکو چادرسی میں پالے مر جاواں گی۔تو ایہہ تے مینوں واپس کر دے۔یعنی بھائی حاجی! میری تو ایک ہی چادر تھی اس کی مجھے ضرورت ہے وہ مجھے واپس کر دے۔یہ سن کر جس نے چادری اُٹھائی تھی شرمندہ ہوا اور اس نے اُس کی چادر اس کے پاس رکھ دی مگر ساتھ ہی اُس نے پوچھا تجھے یہ پتہ کس طرح لگا کہ چادر چرانے والا کوئی حاجی ہے؟ وہ کہنے لگی کہ اس زمانہ میں اس قدر سنگدلی حاجی ہی کرتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ ہم نیک کاموں میں لگے ہوئے ہیں ، یہ مت خیال کرو کہ ہم نیک ارادے رکھتے ہیں کتنا ہی نیک کام انسان کر رہا ہو اس میں سے بدی پیدا ہوسکتی ہے اور کتنا ہی نیک ارادہ انسان رکھتا ہو وہ اس کے ایمان کو بگاڑ سکتا ہے کیونکہ ایمان ہمارے اعمال کے کی نتیجہ میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رحم کے نتیجہ میں آتا ہے۔پس تم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رحم پر نگاہ رکھو اور تمہاری نظر ہمیشہ اُس کے ہاتھوں کی طرف اُٹھے کیونکہ وہ سوالی جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دروازہ سے اُٹھنے کے بعد میرے لئے اور کوئی دروازہ نہیں کھل سکتا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر لیتا ہے۔پس تمہاری نگاہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف اُٹھنی چاہئے جب تک تم اپنی نگاہ اس کی کی طرف رکھو گے تم محفوظ رہو گے کیونکہ جس کی خدا تعالیٰ کی طرف نگاہ اُٹھ رہی ہوا سے کوئی نقصان کی نہیں پہنچا سکتا مگر جونہی نظر کسی اور کی طرف پھیری جائے اور انسان اس کے دروازہ سے قدم اٹھالے پھر خواہ کتنے ہی نیک ارادے رکھے اور کتنے ہی اچھے کام کرے اس کا کہیں ٹھکانہ نہیں