خطبات محمود (جلد 17) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۶ء اس وقت وہی معاملہ ہو رہا ہے جو پہلوں سے ہوا جس طرح پہلوں کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اندھیرے میں رکھا یہاں تک کہ ایک دن اندھیرا دور ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیا اسی کی طرح ضروری ہے کہ ہمیں بھی اندھیرے میں رکھا جائے یہاں تک کہ اس اندھیرے کو دور کر دینے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم نازل ہو جائے۔مصائب کا آنا ضروری ہے، ابتلاؤں کا آنا ضروری ہے، تکالیف کا آنا ضروری ہے، سب چیزیں معمولی ہیں اور ان کی کوئی پرواہ نہیں کی جاسکتی۔جس چیز کی پرواہ ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ یہ مصائب اور ابتلاء ایمانی نہ ہوں کیونکہ جہاں جسمانی مشکلات انسان کے درجہ کو بلند کرتی ہیں وہاں ایمانی مشکلات اس کے درجہ کو گرا دیتی ہیں۔پس مؤمن کو ان مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئے جو دنیا کی طرف سے آتی ہیں بلکہ اسے ان مشکلات کا فکر کرنا چاہئے جو اس کے نفس کی طرف سے آتی ہیں مگر بہت لوگ ہیں جو ان مشکلات کی طرف نگاہ نہیں دوڑاتے جو انسانی نفس سے پیدا ہوتی ہے ہیں مگر وہ ان مشکلات پر نظر رکھتے ہیں جو دوسروں کی طرف سے آتی ہیں حالانکہ وہ مشکلات جوانی دوسروں کی طرف سے آئیں کھاد کی طرح ہوتی ہیں اور وہ مشکلات جو انسانی نفس کی طرف سے آئیں ایسی ہوتی ہیں جیسے جڑ پر تب رکھ دیا جائے۔پس چاہئے کہ ہر شخص جو روحانیت کی قدر کرتا ہے وہ ان مشکلات اور ظلموں کی طرف توجہ کرے جو نفس کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں وہ ظلم اصلی ظلم ہوتے ہیں اور وہ ظلم حقیقی خطرے کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ بالکل ممکن ہے ان کے نتیجہ میں ہمارا ایک بھائی عرش سے فرش پر پھینک دیا جائے مگر جو دنیا کی طرف سے مصیبتیں آتی ہیں وہ ایسی ہوتی ہی ہیں کہ انسان کو فرش سے عرش پر لے جاتی ہیں۔پس بجائے اس کے کہ تم اپنی توجہ ان مشکلات کی طرف پھیرو جو بندے پیدا کر رہے ہیں میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ زیادہ تر اپنے قلوب کا مطالعہ کرے اور اپنے ایمانوں کو دیکھتی رہے۔صلى الله رسول کریم علیہ فرماتے ہیں شیطان انسان کے خون کے ساتھ چلتا ہے اے۔جس طرح کی خون میں پیداہ شدہ زہر کا انسان کو علم بھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی ہلاکت کا سامان مکمل ہو جاتا ہے ہے اسی طرح شیطان انسان پر قبضہ کر رہا ہوتا ہے مگر اسے پتہ بھی نہیں لگتا یہاں تک کہ ایک دن وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔دنیا میں بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو کئی کئی دن پہلے سے انسانی جسم پر اثر ڈالنا