خطبات محمود (جلد 17) — Page 188
خطبات محمود ١٨٨ سال ۱۹۳۶ء دُکان سے بات نکلتی تو وہ غلطی نہ ہوتی جو اس رپورٹ میں موجود ہے۔آخر مجھ سے تو کوئی شخص امید نہیں کر سکتا کہ میں بخاری کو مسلم یا مسلم کو بخاری کہہ دوں۔یہ تو وہی کہ سکتا ہے جس کو حدیث کا نی علم نہ ہو۔پس رپورٹ کے ایک حصہ میں ایسی خطرناک غلطی ہے جو یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا منبع دُکان والے نہیں جو اپنی دواؤں سے خود ہی نا واقف نہیں ہو سکتے پھر ہمارے پاس ہے اس بات کا قطعی ثبوت موجود ہے کہ ڈاک خانہ کے آدمی احراری ایجنٹوں کے پاس بیٹھتے ہیں۔ہمارے پاس اس بات کے بھی گواہ موجود ہیں کہ ڈاکخانہ کے آدمیوں نے کہا کہ انہیں ڈاکخانہ کے کی افسروں نے یقین دلایا ہے کہ احمدیوں کی شکایتوں پر انہیں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا اور یہ کہ گورنمنٹ کا منشاء ہے کہ احمدی یہاں نہ رکھے جائیں۔پھر ایک قطعی ثبوت اس بات کا کہ اس تمام رویہ میں گورنمنٹ کے بعض افسروں کا ہاتھ کی کام کر رہا ہے یہ ہے کہ خانصاحب فرزند علی صاحب جب ایک افسر سے ملے تو اُس نے کہا کیا آپ سمجھتے ہیں ہم آزاد ہیں ہم بھی بعض باتوں کی وجہ سے مجبور ہیں۔جس کا صاف یہ مطلب تھا کہ گویا اس کو اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ کی جائیں۔حکومتِ پنجاب ایسی کسی ہدایت کے دینے سے انکار کرتی ہے لیکن اوپر کے واقعہ کی موجودگی میں ہم مجبور ہیں کہ تسلیم کریں کہ کسی لوکل افسر نے کی جھوٹ بولتے ہوئے ڈاک خانہ کے بعض افسروں کو دھوکا دیا ہے۔میں گزشتہ ماہ میں سندھ گیا تھا اس سفر میں میری ڈاک کا جو حال ہوا وہ یہ ہے کہ جن خطوط پر ۴،۳ اور ۵ تاریخ کی قادیان کی مہریں لگی ہوئی تھیں وہ مجھے تاریخ کو ملے حالانکہ 9 تاریخ کے کی خطوط بھی مجھے کو ملے۔ان ۴۳ اور پانچ تاریخ والے خطوط پر کسی اور جگہ کی مہر نہیں۔بعض خطوط ایسے بھی تھے جو غلطی سے کسی اور جگہ چلے گئے لیکن اُن پر ان دوسرے ڈاک خانوں کی مہر میں تھیں جہاں وہ گئے لیکن ان خطوط پر کسی اور جگہ کی مہر نہ تھی جو صاف طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ ان خطوط کو روکا گیا تھا اور پھر کئی دن کے بعد انہیں روانہ کیا گیا۔اسی طرح الفضل کو دق کیا جا رہا ہے اور متواتر اس کے پرچے لیٹ کئے جاتے ہیں یا بعض دفعہ پرچے خریداروں کو پہنچتے ہی نہیں۔اسی کی طرح جوابی کارڈ غلط مُمبر میں لگا کر بعض دفعہ خط لکھنے والوں کو واپس کر دئیے جاتے ہیں۔یہ کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ان کی طرف متواتر افسروں کو متوجہ کیا جاتا ہے مگر اب تک