خطبات محمود (جلد 17) — Page 187
خطبات محمود ۱۸۷ سال ۱۹۳۶ء یہ رپورٹ میرے پاس صبح 9 بجے قریب پہنچی اور بارہ بجے کے قریب ڈاک والا وہ پارسل میرے نام لا یا۔میں نے اُسی وقت پارسل لے کر دفتر کے ایک آدمی کو اس رپورٹ پر نشان لگا کر جو مجھے صبح پہنچی تھی ڈاک خانہ میں بھیجا کہ انہیں رپورٹ کا اتنا حصہ پڑھا آؤ اور کہہ آؤ کہ پارسل ہمیں بعد میں پہنچا ہے لیکن یہ اطلاع پہلے پہنچی تھی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں میں سے کوئی احرار کے دفتر میں اطلاعات دیتا رہتا ہے۔اس پر پوسٹ ماسٹر صاحب نے کہلا بھیجا کہ میں اس واقعہ کی تحقیق کی کروں گا۔وہ آدمی واپس آیا تو اُسی وقت دفتر سے ایک اخبار مجھے بھیجا گیا احسان تھا یا مجاہد مجھے صحیح یاد نہیں میں نے جب اُسے کھولا تو اُس میں پارسل کا ذکر بھی چھپا ہوا دیکھا چنانچہ وہ پر چہ بھی میں نے انہیں بھجوا دیا۔اب اس کے صاف طور پر یہ معنی ہیں کہ ڈاک خانہ کا عملہ پارسلوں اور خطوط کی اطلاعات احرار تک پہنچاتا ہے اور انہیں خبریں بہم پہنچاتا رہتا ہے۔ہم نے اس بارہ میں شکایت کی لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا بلکہ جو افسر تحقیق پر مقرر ہوا اُس کا رویہ نہایت افسوسناک رہا ہے اور وہ مجرموں سے بھی زیادہ جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ہمیں صرف یہ جواب ملا ہے کہ یہ جو خبر نکلی ہے لاہور سے نکلی ہے قادیان کے ڈاکخانے سے نہیں نکلی اور دلیل یہ دی گئی ہے کہ یہ اخبارسولہ تاریخ کا ہے اور جو پارسل قادیان میں سولہ کو پہنچا ہے اس میں سولہ کی خبر نہیں چھپ سکتی۔بظاہر یہ ایک معقول بات معلوم ہوتی ہے لیکن ہے جھوٹ۔اس لئے کہ خبر سترہ کے اخبار میں چھپی تھی اور سترہ کی مُہر لگی ہوئی ہمارے پاس موجود ہے سولہ کو پارسل قادیان پہنچا سترہ کو دو پہر کے وقت تقسیم ہوا۔سولہ کو بٹالہ سے فون کے ذریعہ سے خبر بھجوائی جاسکتی تھی جیسا کہ احرار ان دنوں میں کرتے ہی رہے ہیں اور شام کو چھپ کر سترہ کو اخبار قادیان پہنچ سکتا تھا۔۷ا کی مہر اس خبار پر خود ڈاکخانہ کی لگی ہوئی موجود ہے مگر افسروں کو دھوکا دینے کیلئے ماتحت عملہ اسے سولہ قرار دے دیتا ہے مگر اس کے علاوہ ب قطعی ثبوت ہمارے پاس ایسا موجود ہے جس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ یہ بات لاہور سے نہیں نکلی۔اگر گورنمنٹ نے اس معاملہ میں تحقیق کی تو اس کے سامنے وہ یقینی اور قطعی ثبوت پیش کر دیا جائے گا۔اب تک میں نے اس کو ظاہر نہیں کیا لیکن اگر گورنمنٹ تحقیق کرے گی تو وہ یقینی اور کی قطعی ثبوت میں اس کے سامنے پیش کر دوں گا۔اس موقع پر میں اس کی تفصیل بتائے بغیر صرف اس قدر کہ دینا چاہتا ہوں کہ اس رپورٹ کا ایک حصہ غلط ہے اگر وہ لاہور سے کسی کی رپورٹ ہوتی اور