خطبات محمود (جلد 17) — Page 189
خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۳۶ء کوئی توجہ نہیں کی گئی اور جب بار بار توجہ دلانے کے باوجود ایک افسر نے کچھ کہا تو یہ کہا کہ میں آزادی تھوڑا ہوں۔جس کے معنے یہ تھے کہ اگر قادیان میں ایک بکری کی پیٹ میں بھی درد ہوتا ہے تو اس کی اطلاع او پر جاتی ہے اور وہاں کے اشارہ سے اس بارہ میں کوئی کارروائی کی جاتی ہے۔اب حال میں خان صاحب فرزند علی صاحب، چوہدری اسد اللہ خان صاحب اور پیرا کبر علی صاحب پوسٹ ماسٹر جنرل سے ملے ہیں اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس طرف توجہ کروں گا۔اگر یہ وی وعدے پورے ہو جائیں جیسا کہ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذمہ دار حکام اس دفعہ حقیقت کو پاچکے ہیں اور حالات کی اصلاح کرنے پر تیار ہیں تو ہماری شکایات کا یہ حصہ ختم ہو جائے گا اور ہم باوجود گزشتہ تکالیف کے یقیناً اس محکمہ کے افسروں کے ممنون ہوں گے مگر آئندہ تو جو کچھ ہو گا ہوگا۔جب ہم گزشتہ دو سالوں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ تمام احمدیوں کو یہاں سے بدل دیا گیا ہے تو ہمار اشبہ اور بھی قوی ہو جاتا ہے۔ریلوے میں ایک احمدی تھا اُسے بھی تبدیل کر دیا گیا ، ڈاک خانہ میں دو احمدی تھے انہیں تبدیل کر دیا گیا، پولیس میں دو احمدی تھے انہیں تبدیل کر دیا گیا، ایک نائب پٹواری احمدی تھا اُسے تبدیل کر دیا گیا، ایک پٹواری کے متعلق محبہ تھا کہ وہ کی احمدی ہے اسے بھی یہاں سے بدل دیا گیا ، بجلی والے جن کی آمد کا ۹۰ فیصدی احمد یوں پر انحصار ہے کسی احمدی کو ملازم نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں سرکار والا مدار کا حکم نہیں کہ کسی احمدی کو ملازم کی رکھیں۔چنانچہ اس وقت کسی محکمہ میں کوئی بھی اعلیٰ ملازمت والا احمدی نہیں۔اور پولیس میں تو غریب کانسٹیبلوں تک کو تبدیل کر دیا گیا ہے تو ان حالات کو دیکھ کر ہمارے دلوں میں ایک منظم کوشش کا شبہ پیدا ہونا قدرتی اور لازمی امر ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ حسنِ اتفاق ہے لیکن اگر یہ حسنِ اتفاق کی ہے تو کیا یہ حسن اتفاق دنیا میں کہیں اور بھی پایا جاتا ہے؟ اس حُسنِ اتفاق کے ماتحت کوئی کوشش تو کرے کہ کسی جگہ سے سب کے سب مسلمان نکل جائیں یا ہندوؤں کو الگ کر دیا جائے۔پس ہم تی ہرگز یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور نہ دنیا کا کوئی عقلمند یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوگا کہ یہ حسنِ اتفاق کیا ہے۔یہ حسنِ اتفاق نہیں بلکہ سُوئے تدبیر ہے۔ان چیزوں کے ذریعہ دنیا میں کبھی آپس میں محبتیں قائم نہیں رہتیں اور حکومتیں کبھی محبت کے بغیر دنیا میں قائم نہیں رہتیں۔آخر کب تک ہم ان باتوں کو دیکھتے چلے جائیں گے اور ہمارے دلوں میں محبت کے جذبات قائم رہیں گے۔یقینا اس کی بہت