خطبات محمود (جلد 17) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۶ء اس طرح چالیس دنوں میں یہ ختم کئے جائیں اور ان دنوں میں مل کر بھی اور انفرادی طور پر بھی ایسی تی دعائیں کی جائیں جو عرش الہی کو ہلا دیں تا خدا تعالیٰ اپنی فوجوں کو حکم دے کہ ساز و سامان سے تیار ہو جاؤ اور جاؤ کہ دنیا کے پردہ پر میرے کچھ مظلوم بندے ہیں انہیں کمزور سمجھ کر کچھ طاقتور حکام اور اکثریت کے نمائندے ان پر ظلم کر رہے ہیں، ان کے دل غم سے بھرے ہوئے ہیں اور آنکھیں اشکوں سے پر ہیں وہ تھوڑے ہیں اور بے کس ، دنیا کے پردہ پر کوئی ان کا والی نہیں ، ہر قوم ان سے اس لئے دشمنی کر رہی ہے کہ انہوں نے میری آواز کیوں سُنی اور میری پکار پر لبیک کیوں کہا میں کی ان کی آواز سنوں گا اور ان کی پکار کو بیکار نہیں جانے دوں گا۔بے شک دنیا داروں کی نگاہ میں وہ بیکس ہیں مگر انہیں کیا معلوم کہ میں ان کا والی ہوں اور میں ان کا حامی ہوں تم جاؤ اور ان کے مخالفوں کو دنیا سے مٹا دو خواہ دلوں میں تبدیلی پیدا کر کے اور ہدایت بخش کر یا ضد کی صورت میں کی ان کے گھروں پر میری لعنت برسا کر اور میرا عذاب نازل کر کے۔پس جھک جاؤ اور دعا کرو اور پھر جھک جاؤ اور دعا کرو پھر جھک جاؤ اور دعا کرو یہاں تک کہ عرشِ الہی سے تمہاری امداد کا حکم نازل ہو جائے۔خدا تعالیٰ کے ایک مقدس کو اور رسول کریم کے نائب کو اتنی گندی گالیاں دی گئی ہیں اور ایسے ناپاک الفاظ سے اسے یاد کیا گیا ہے کہ یہ دنیا اب مؤمن کے رہنے کے قابل نہیں جب تک خدا کا ہاتھ اسے پھر پاک نہ کرے۔یہ ناپاکی ملک خدا کے قہر کو بلا رہا ہے اور یہ گندے لوگ اُس کے غضب کو بھڑکا رہے ہیں ہم نے ان کا کیا کی قصور کیا تھا کہ ہم پر یہ ظلم ہور ہے ہیں۔ہم ہمیشہ حکومت کے وفادار رہے ہیں اور اب بھی وفادار ہیں ، ہم ہمیشہ بنی نوع انسان کے خیر خواہ رہے ہیں اور اب بھی خیر خواہ ہیں مگر ہم کیا کریں کہ ہماری طاقت سے زیادہ ہم پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور ظلم کا طوفان تھمنے میں آتا ہی نہیں۔کاش! یہ لوگ ہمیں قتل کر دیتے مگر ہمارے آقا کو گالیاں نہ دیتے ، کاش! حکومت ہمیں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیتی لیکن ان نا قابل برداشت گالیوں کو جو ہمیں نہیں بلکہ ہمارے جان و دل سے پیارے ہادی کو دی جاتی ہیں بند کرا دیتی۔اگر حکومت کو خدا تعالیٰ نے باطنی آنکھیں دی ہوتیں تو وہ اس خون کو دیکھ سکتی ہے جو ہمارے دلوں سے بہ رہا ہے۔وہ اُس خون کا بدلہ لیتی ہے جو چمڑے سے بہایا جاتا ہے پھر کیوں وہ اس خون کا بدلہ نہیں لیتی جو دل سے بہایا جاتا ہے۔اب اس دکھ کی ساعت میں جب کہ خدا تعالیٰ