خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 157

خطبات محمود ۱۵۷ سال ۱۹۳۶ء ہمیں خود بدلہ لینے سے منع کرتا ہے ہم اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں کہ اُس کے حضور میں گر جائیں اپنے آنسوؤں سے اپنی سجدہ گاہ کو تر کر دیں اور التجا کریں کہ اے ہمارے خدا! اے ہمارے آقا! اے بے کسوں کے والی ! اے مظلوموں کے حامی ! تیری یہ دنیا ظلم اور جور سے ناپاک ہوگئی ہے اپنے فرشتوں کو بھیج کہ تو بہ کے پانی یا عذاب کی آگ سے اس کو پاک کریں کہ اب اس دنیا میں ایک ایک دن کی رہائش ہمارے لئے عذاب ہے۔تیرا وعدہ تھا کہ تو اسے ہمارے لئے جنت بنائے گا۔اے سچے وعدوں والے! تیری رحمت کا دامن پکڑ کر تجھے تیرے ہی جلال کی قسم دیتے ہوئے ہم تجھ سے ہی التجاء کرتے ہیں کہ ہمارے زخمی دلوں پر ہمدردی کا مرہم لگا اور اس دنیا کو جو ہمارے لئے خاردار جنگل بن گئی ہے اپنی محبت کا گلزار بنادے اور ہمیں وہ تقویٰ بخش جس سے تیرا نہ ختم ہونے والا وصال ہمیں حاصل ہو ، اور وہ ہمت بخش کہ جس سے تیرے رُوٹھے ہوئے بندوں کو ہم منا کر واپس لائیں۔اے آقا! تجھ میں سب طاقتیں ہیں اور ہم میں کچھ بھی نہیں۔پھر تیرا در نہ کھٹکھٹا ئیں تو کہاں جائیں۔تجھ سے نہ مانگیں تو رکس سے مانگیں۔رحم کر ، رحم کر ، رحم کر کہ تو ارح الرَّاحِمِينَ ہے اور ہم تیرے دروازے کے ابدی بھکاری ہیں۔آمِينَ يَارَبَّ الْعَلَمِینَ۔الفضل ۲۷ مارچ ۱۹۳۶ء) سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۱۶ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ السيرة الحلبيه جلد ۲ صفحه ۳۳۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (الاحزاب : ۱۲)