خطبات محمود (جلد 17) — Page 146
خطبات محمود ۱۴۶ ⑨ سال ۱۹۳۶ء آؤ ہم پھر خدا تعالیٰ کے حضور چلائیں اور اپنے آنسوؤں سے اپنی سجدہ گاہ کو تر کر دیں (فرموده ۲۰ / مارچ ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں اپنے گزشتہ خطبات میں اس امر کا ذکر کر چکا ہوں کہ نہ تو وہ مخالفت ہمارے رستہ سے پوری طرح ہٹی ہے جو سلسلہ احمدیہ کو نقصان پہنچانے کیلئے بعض دشمنانِ سلسلہ کی سازش سے شروع کی گئی تھی اور نہ ایسے حالات ہی پیدا ہوئے ہیں کہ جن کے ماتحت ہم یہ کہ سکیں کہ قریب عرصہ میں کی وہ مخالفتیں خود بخود دب جائیں گی یا بیٹھ جائیں گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان بے شک ظاہر کی ہوئے ہیں اور اس کی تائید ہمیں حاصل ہوئی ہے مگر وہ ایسی صورت میں ہے کہ ابھی دشمن اس سے مرعوب نہیں ہوا گویا وہ پہلی رات کا چاند ہے جسے تیز نظر والوں نے تو دیکھ لیا مگر کمزور نظر والے ابھی محروم ہیں۔روحانی آنکھ کو تو وہ تائید و نصرت نظر آ رہی ہے مگر جن کی روحانیت مردہ ہے انہیں وہ کی تائید و نصرت نظر نہیں آرہی اس لئے اس سے عبرت پکڑنے کیلئے وہ ابھی تیار نہیں ہیں اور فائدہ کی اُٹھانے کیلئے آمادہ نظر نہیں آتے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان تمام سامانوں کو اور ان تمام ذرائع کو اور ان تمام تدابیر کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی کیلئے اور اس کے مخالفوں کی شرارتوں کو دور کرنے کیلئے عطا فرمائی ہیں اور اپنی طرف سے جد و جہد ، سعی اور کوشش