خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 145

خطبات محمود ۱۴۵ سال ۱۹۳۶ء نوکر رکھنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ ان سے ناجائز بختی نہ کریں اور نہ ان کے حقوق تلف کریں۔اور کی اگر تم دیانتداری اختیار کرو تو یقینا اس سے تمہیں نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ہمارے ملک کا عام اخلاقی معیار بہت بلند ہو جائے گا اور دین کو اس ذریعہ سے جو مدد پہنچے گی وہ مزید برآں ہے۔پس گزشتہ واقعہ کے متعلق میں دُکانداروں کے اُس حصہ کو جس نے سٹرائک کی ، تنبیہ کرتا ہوں اور آئندہ کیلئے انہیں بتا دیتا ہوں کہ ہم اس قسم کی حرکت برداشت نہیں کر سکتے۔ہمارا طریق اسلامی ہے اور ہم اسلامی طریق ہی دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں لاکھوں آدمیوں کی ضرورت نہیں بلکہ اخلاص ، محبت اور دین پر عمل کرنے والے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ان لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنا سب کچھ اسلام کیلئے قربان کر دینا اپنے لئے باعث فخر سمجھیں اور اگر اس روح کے رکھنے والے دس آدمی بھی ہوں تو یقیناً ان دس آدمیوں کے ذریعہ ہی دنیا فتح ہوگی اور کوئی طاقت ان کی فتح میں روک بن کر حائل نہیں ہو سکے گی۔وہ لاکھوں آدمی ہمیں کام نہیں دے سکتے جو اسلامی زندگی کو اختیار کرنے اور اس کے مطابق اپنے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ اخلاص رکھنے اور اسلام کے مطابق اپنی عملی زندگیاں بنانے والے آدمی ہمیں کام دے سکتے ہیں۔اگر آدمیوں کی کثرت اسلام کو غلبہ دے سکتی تو کروڑوں مسلمان کہلانے والے دنیا میں موجود تھے وہ کیوں اسلام کو دنیا پر غالب نہ کر دیتے۔مگر خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑ کر ایک چھوٹی سی جماعت کو اس کی لئے دوبارہ دنیا میں کھڑا کیا ہے تاكَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً ا كا نشان دنیا پر ظاہر کرے اور بتائے کہ کئی چھوٹی جماعتیں ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ بڑی بڑی جماعتوں کو مغلوب کر لیتی ہیں۔ل البقرة: ۲۵۰ ( الفضل ۱۸ / مارچ ۱۹۳۶ء )