خطبات محمود (جلد 17) — Page 147
خطبات محمود ۱۴۷ سال ۱۹۳۶ء میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ آنے دیں کیونکہ روحانی سلسلوں کے تمام امور کی بنیاد دوہی چیزوں پر ہوتی ہی ہے ایک طرف بندے کی انتہائی کوشش اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا انتہائی فضل۔روحانی سلسلے چونکہ کمزور جماعتوں سے چلائے جاتے ہیں، ان کے افراد بہت تھوڑے ہوتے ہیں ، ان کے پاس سامان نہایت ہی کم ہوتا ہے، دنیوی طور پر ان سامانوں اور ان افراد سے کامیابی کا منہ دیکھنا مشکل ہوتا ہے اس لئے جو کمی اس کوشش اور سامانوں کی قلت اور افراد کی کمی کی وجہ سے رہ جاتی ہے اسے اللہ تعالیٰ کا فضل پورا کر دیتا ہے۔پس یہ دو چیزیں مل کر ہمیشہ روحانی جماعتوں کی کامیابی کا موجب ہوتی ہیں اور یہی ہماری کامیابی کا موجب ہو سکتی ہیں۔ایک طرف خدا تعالیٰ کا ہم سے تقاضا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ اُس کے قدموں میں لا ڈالیں اور اُس کے دین کیلئے قربان کر دیں اور دوسری طرف اُس کا وعدہ ہے کہ باقی کمی وہ اپنے فضل سے پوری کر دے گا۔خدا تعالیٰ تو وعدوں کا سچا ہے اس کی کوئی بات غلط نہیں ہوسکتی۔پس اگر کوئی نقص ہو اور نتائج صحیح نہ نکلیں ، اگر کامیابی کے آنے میں دیر لگے تو قطعی طور پر ایک ہی نتیجہ اس سے نکل سکتا ہے کہ جس حد تک ہم سعی کر سکتے تھے اُس حد تک ہم نے سعی نہیں کی۔اگر خدانخواسہ ہمیں ناکامی حاصل ہو تو سوائے تین باتوں کے کوئی چوتھی بات نہیں ہے ہو سکتی۔یا تو یہ کہ ہم نے اپنا فرض ادا کرنے میں کوتاہی کی یا یہ کہ خدا تعالیٰ نے اپنی ذمہ داری اداری کرنے میں کوتاہی کی اور یا یہ کہ جس سلسلہ کو ہم روحانی سمجھتے تھے وہ روحانی نہیں تھا بلکہ دنیوی تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس کی نصرت کا کوئی وعدہ نہ تھا۔پس یہ تین پہلو ہی اس کی ناکامی کے ہو سکتے ہیں چوتھا کوئی نہیں۔اول یہ کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں تو ہمارے لئے کسی شک کی گنجائش ہی نہیں۔دوم یہ کہ خدا تعالیٰ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کرنے والا ہے اس میں بھی ہمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا۔پس اگر کوئی بات باقی رہ جاتی ہے تو یہی کہ کوتا ہی ہم سے ہوئی ہے اور ہماری تنی غلطیوں سے کامیابی میں دیر ہو گئی اور مخالفتوں میں ترقی ہو گئی۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے فرائض کو یا در کھتے ہوئے ان تمام تدابیر کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ نے اسلام اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی کیلئے فرمائی ہیں اور