خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 86

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء خونریزیاں مٹ جائیں گی۔ تم ہم سے ایک مرد اور عورت کا فرق نہیں کر سکتے۔ تم ایک توپ کا گولہ چلاتے وقت یہ احتیاط نہیں کر سکتے کہ عورتیں اس کی زد سے بچی رہیں، بچے محفوظ رہیں لیکن تلوار چلاتے وقت تم یہ سب احتیاطیں کر سکتے ہو۔ تم دیکھ سکتے ہو کہ تمہارے سامنے عورت ہے یا مردہ لڑائی میں شامل ہونے والا ہے یا را بگیر اور مسافر لیکن توپ کا گولہ بلا تمیز سب کو مٹادے گا۔ عورتیں زد میں آئیں گی تو انہیں ہلاک کر دے گا، ہسپتال زد میں آئیں گے تو انہیں تباہ کر دے گا ، زخمی جو ہسپتال میں زخموں کی وجہ سے کراہ رہے ہوں گے انہیں بھی موت کے گھاٹ اُتار دے گا لیکن تلوار چلاتے وقت انسان سمجھتا ہے کہ میرے سامنے کون ہے اور میں کس کو ہلاک کر رہا ہوں۔ پس اگر آج رسول کریم ﷺ کی اسی ایک تعلیم پر دنیا عمل کرے تو جنگ کا نقشہ بدل جائے اور رحم کا مفہوم کچھ اور ہو جائے لیکن چونکہ دنیا توپوں اور بموں سے کام لیتی ہے اس لئے اسلامی حکومتیں مجبور ہیں کہ وہ دفاع میں تو ہیں اور ہم استعمال کریں۔ اسی طرح ہم روپیہ کی طرف اس لئے جاتے ہیں کہ دشمن روپیہ سے کام لے رہا ہے، وہ کفر کی اشاعت روپیہ سے کر رہا اور دنیا میں اسلام کے خلاف روپیہ کی مدد سے اعتراضات پھیلا رہا ہے۔ ورنہ اسلام روپیہ کی قربانی کو ادنی قربانی قرار دیتا ہے اور اصل قربانی وہ اس چیز کو قرار دیتا ہے جو دل اور دماغ اور آنکھ اور زبان اور ہاتھ سے ہو۔ پس میں پھر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے اندر صحیح قربانی کا مادہ پیدا کرے ورنہ باتیں تو پادر ہوا ہے چیزیں ہیں اور اعلیٰ سے اعلیٰ چیز بھی بے اثر ہو جاتی ہے اگر ماننے والے موجود نہ ہوں۔“ ( الفضل ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء ) بخارى كتاب البيوع باب ماقيل في الصواغ صفحه ۳۳۵ حدیث نمبر ۲۰۸۹ مطبوعه دار السلام ریاض ٩٩٩اء الطبعة الثانية المؤمنون: ۵۲ آل عمران: ۵۶ سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۶ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ ه سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۰ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ سنن ابو داؤد كتاب الادب باب في قتل الذر صفحه ۷۳۸ حدیث نمبر ۵۲۶۸ مطبوعه دار السلام ریاض ٩٩٩اء الطبعة الاولى کے پادر ہوا : بے اصل ۔ خیالی - فرضی ( جہانگیر اللغات فارسی اردو صفحہ۱۰۲ مطبوعہ لاہور )