خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 769 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 769

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ سال ۱۹۳۶ء بتاتے ہیں اور کم کھانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ایک کھانا کھائے زیادہ کھانوں میں کم خوری بہت مشکل ہوتی ہے۔ سو دوستوں کو اس تحریک کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ ہمارے دوست عموماً ایک دوسرے پر نگاہ رکھیں گے اور ان کے اعمال کو تاڑیں گے مگر شکایت کی غرض سے نہیں ، جاسوسی کے طور پر نہیں کیونکہ جاسوسی اسلام میں منع ہے بلکہ اس نیت سے کہ دوسرے کی اصلاح ہو اور پھر اس شخص کے علاوہ اور کسی کے پاس ذکر نہ کیا جائے۔ یہ میں پسند نہیں کروں گا کہ لوگ میرے پاس آئیں اور کہیں کہ فلاں شخص دو کھانے کھاتا ہے۔ میں نے ایک کھانا کھانے کا کوئی حکم نہیں دیا میں نے صرف تحریک کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس تحریک کے باوجود دو کھانے کھاتا ہے تو اُس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے ممکن ہے وہ اس تحریک کو ہی فضول سمجھتا ہو اور ممکن ہے کہ وہ کسی خاص وجہ سے دو کھانے استعمال کرتا ہو۔ بہر حال جبکہ میری طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں تو میں نہیں چاہتا کہ اس کی خلاف ورزی پر کسی کو سزا دوں لیکن میں امید کرتا ہوں کہ جہاں تک دوستوں سے ممکن ہے وہ اس سوال پر غور کریں، وہ میرے دلائل کو سوچیں ، وہ اسلام کی تاریخ کو دیکھیں، وہ محمد ﷺ کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں اور پھر سوچیں کہ جو میں کہ رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں ۔ اگر انہیں معلوم ہو کہ صحیح ہے تو اس پر عمل کریں اور اگر کوئی دوست غفلت میں ہے اور ان۔ ، علی صلى الله مبتلاء ہے اور اس کے محلے والا سمجھتا ہے کہ اس کو سمجھا نا مناسب ہے تو اسے سمجھائے لیکن اسے بدنام نہ کرے اور نہ اُس کی کمزوری کا کسی اور کے پاس ذکر کرے۔ پس اس نظر سے اگر کوئی دوسرے نہ کی کا ذکر کرے نظر سے اگر کاسی اور کے پاس پی کر کرے۔ پس اس نظر سے اگر کوئی دو بھائی کے اعمال کو دیکھے گا تو یہ تجتس نہیں کہلائے گا۔ تجسّس اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے بھائی کے اعمال یکھے تو کو حالات معلوم کرنے کیلئے مخفی ذرائع سے کام لے اور پھر لوگوں میں باتیں کرتا پھرے لیکن جب یہ اپنے بھائی کا نقص اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے اور کسی اور کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونے دیتا تو یہ اپنے دوست کا محاسب ہے متجسس نہیں اور دوستوں کا محاسبہ کرنا بڑی نیکی ہوتی ہے۔ یہ یاد رکھو کہ میں نے نگاہ رکھنا کہا ہے تجسس نہیں کہا اور نگاہ رکھنا اور ہوتا ہے اور تجسس اور ۔ اگر یہ کسی کے مکان پر جاتا اور گھر والے کے بچے کو بلا کر پوچھتا ہے کہ آج تمہارے ہاں کیا کیا پکا ہے؟ تو یہ جس ہے اور منع ہے لیکن نگاہ رکھنا یہ ہے کہ مثلاً باتوں باتوں میں کسی نے کہہ دیا کہ آج ہم نے گھر میں یہ چیز پکائی ہے تو اس کی باتیں سن کر اسے نصیحت کر دی کہ یہ درست نہیں ایک ہی کھانا کھانا چاہئے ۔ پس