خطبات محمود (جلد 17) — Page 759
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۵۰ سال ۱۹۳۶ء طرف سے الہام ہوتا ہے کہ میں نبی ہوں ابوبکر نے کہا ٹھیک ہے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا نبی مانتا صلى الله سم ہوں محمد ﷺ نے فرمایا ہمیں دین کیلئے چندہ کی ضرورت ہے لوگوں کو چاہئے کہ وہ مال دیں ابو بکر صلى الله نے اپنا سارا مال لا کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا اور کہا ٹھیک ہے خدمت دین کا یہی صلى الله صلى الله علو سم ۔ موقع تھا۔ محمد ﷺ نے فرمایا مجھے لڑائی کا حکم ہوا ہے ابو بکر تلوار باندھ کر آگئے اور کہا چلئے میں تیار ہوں محمد ﷺ نے سابقہ حکم کے بالکل الٹ صلح حدیبیہ کے موقع پر فرمایا ہمارا منشاء ہے کہ لڑائی نہ کریں بلکہ صلح کر لیں ۔ سب کے ماتھے پر شکن آئے یہاں تک کہ عمر کے ماتھے پر بھی مگر ابو بکر نے کہا ٹھیک ہے یونہی ہونا چاہئے اور صلح ہی بہتر ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کی روحانیت کی گرہ کشائی ایسی کر دی تھی کہ جو آواز بھی محمد ﷺ کی طرف سے آتی وہ کہتے یہی ہونا چاہئے ۔ الله صلى الله صلى الله ایک اور شخص کا حال بھی حدیثوں میں آتا ہے ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا وہ مؤمن نہیں تھا اس نے آپ کا نام لے کر کہا آپ نے میرے کچھ روپے دینے ہیں ۔ رسول کریم ہے نے فرمایا وہ تو میں نے ادا کر دیئے تھے اس نے کہا نہیں مجھے کوئی ادا نہیں ہوئے ۔ اس پر ایک صحابی کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! میں اس بات کا گواہ ہوں کہ آپ نے روپے ادا کر دیئے ہیں ۔ اس شخص کا خیال تھا کہ روپوں کی ادائیگی کا کوئی گواہ نہیں ہو گا لیکن جب ایک صحابی نے گواہی دے دی تو چونکہ وہ جھوٹ بول رہا تھا اور ناجائز طور پر تقاضا کر رہا تھا اس لئے اس نے مان لیا اور کہنے لگا ہاں مجھے یاد آ گیا ہے آپ نے مجھے روپے دے دیئے تھے۔ رسول کریم ﷺ نے حیرت سے اس صحابی کی طرف دیکھا اور فرمایا تم اس موقع پر کب تھے؟ اس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! میرے وہاں ہونے کی کیا ضرورت تھی آپ روز کہتے ہیں خدا تعالیٰ آسمان سے مجھ پر وحی نازل کرتا ہے اور میں اسے مان لیتا ہوں کیا میں اُس وقت آسمان پر موجود ہوتا ہوں؟ اسی طرح جب آپ کہتے ہیں کہ میں نے روپیہ ادا کر دیا ہے تو میں اس کی بھی گواہی دے سکتا ہوں ۔ اب دیکھو کہ چونکہ اس صحابی کی گواہی ایمانی طاقت کے ساتھ تھی اس کا دشمن پر بھی اثر اہوا اور اس نے تسلیم کر لیا کہ میری ہی غلطی تھی ۔ تو صرف دل کی گرہ کھلنے کی دیر ہوتی ہے جس وقت اللہ تعالیٰ کسی انسان کے دل کی گرہ کھول دیتا ہے تو ہر بات میں اس کیلئے آپ ہی آپ راہنمائی نکلتی آتی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں ان اخراجات کے ساتھ دوستوں کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جلسہ سالانہ پر آنے کا بھی ایک زائد خرچ ہے