خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 760 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 760

خطبات محمود سال ۱۹۳۶ بتاتے ہیں اور کم کھانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان ایک کھانا کھائے زیادہ کھانوں میں کم خوری بہت مشکل ہوتی ہے۔سو دوستوں کو اس تحریک کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ ہمارے دوست عموماً ایک دوسرے پر نگاہ رکھیں گے اور ان کے اعمال کو تاڑیں گے مگر شکایت کی غرض سے نہیں ، جاسوسی کے طور پر نہیں کیونکہ جاسوسی اسلام میں منع ہے بلکہ اس نیت سے کہ دوسرے کی اصلاح ہو اور پھر اس شخص کے علاوہ اور کسی کے پاس ذکر نہ کیا جائے۔یہ میں پسند نہیں کروں گا کہ لوگ میرے پاس آئیں اور کہیں کہ فلاں شخص دو کھانے کھاتا ہے۔میں نے ایک کھانا کھانے کا کوئی حکم نہیں دیا میں نے صرف تحریک کی ہے کہ اگر کوئی شخص اس تحریک کے باوجود دوکھانے کھاتا ہے تو اُس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے ممکن ہے وہ اس تحریک کو ہی فضول سمجھتا ہو اور ممکن ہے کہ وہ کسی خاص وجہ سے دو کھانے استعمال کرتا ہو۔بہر حال جبکہ میری طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں تو میں نہیں چاہتا کہ اس کی خلاف ورزی پر کسی کو سزا دوں لیکن میں امید کرتا ہے ہوں کہ جہاں تک دوستوں سے ممکن ہے وہ اس سوال پر غور کریں ، وہ میرے دلائل کو سوچیں ، وہ ی اسلام کی تاریخ کو دیکھیں ، وہ محمد ﷺ کی زندگی پر نگاہ دوڑائیں اور پھر سوچیں کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں۔اگر انہیں معلوم ہو کہ صحیح ہے تو اس پر عمل کریں اور اگر کوئی دوست غفلت میں مبتلاء ہے اور اس کے محلے والا سمجھتا ہے کہ اس کو سمجھا نا مناسب ہے تو اسے سمجھائے لیکن اسے بدنام نہ کرے اور نہ اُس کی کمزوری کا کسی اور کے پاس ذکر کرے۔پس اس نظر سے اگر کوئی دوسرے بھائی کے اعمال کو دیکھے گا تو یہ تجنس نہیں کہلائے گا۔تجسس اس کو کہتے ہیں کہ انسان اپنے بھائی کے حالات معلوم کرنے کیلئے مخفی ذرائع سے کام لے اور پھر لوگوں میں باتیں کرتا پھرے لیکن جب یہ اپنے بھائی کا نقص اپنی ذات تک محدود رکھتا ہے اور کسی اور کو کانوں کان بھی خبر نہیں ہونے دیتا تو یہ اپنے دوست کا محاسب ہے تجسس نہیں اور دوستوں کا محاسبہ کرنا بڑی نیکی ہوتی ہے۔یہ یاد رکھو کہ میں نے نگاہ رکھنا کہا ہے تجنس نہیں کہا اور نگاہ رکھنا اور ہوتا ہے اور تجنس اور۔اگر یہ کسی کے مکان پر جاتا اور گھر والے کے بچہ کو بلا کر پوچھتا ہے کہ آج تمہارے ہاں کیا کیا پکا ہے؟ تو یہ نجس ہے اور منع ہے لیکن نگاہ رکھنا یہ ہے کہ مثلاً باتوں باتوں میں کسی نے کہہ دیا کہ آج ہم نے گھر میں یہ چیز پکائی ہے تو اس کی باتیں سن کر اسے نصیحت کر دی کہ یہ درست نہیں ایک ہی کھانا کھانا چاہئے۔پس ،