خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 651 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 651

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۴۲ سال ۱۹۳۶ء وہ اگر مسٹر جسٹس کولڈ سٹریم کے فیصلہ کو اپنی زبان سے نہیں دُہرا سکتا اور لوگوں کو یہ نہیں بتا سکتا کہ ہائیکورٹ کے ایک حج نے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق کیا کہا تو اُس کا کوٹ پہن کر لوگوں میں پھر نا ایک بامعنی اور با غرض کام ہے جسے کوئی بھی بُرا نہیں کہہ سکتا بلکہ اگر وہ اپنی ٹوپی پر بھی اس قسم کی با غرض اور با مقصد عبارت لکھوا کر لوگوں میں جاتا ہے تو وہ یقینا گونگا ایک مفید کام کرتا ہے۔ شاید اس موقع پر کوئی شخص اعتراض کرے کہ حضرت با وانا تک صاحب تو زبان سے اپنے عقائد کا اظہار کر سکتے تھے پھر انہوں نے چولہ کیوں بنوایا اور کیوں اُس پر عربی عبارات لکھوائیں اور کیوں اسے پہنے پھرے حالانکہ ان کی قوم عربی آیات کا مطلب نہیں سمجھ سکتی تھی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت با وانا تک صاحب کے چولہ پہننے میں بھی حکمت تھی اور وہ حکمت یہ تھی کہ بیشک سکھ اور ہندو جن میں وہ چولہ پہن کر اپنے عقائد کی اشاعت کیا کرتے تھے عربی سے ناواقف تھے لیکن تک ایک ایسی قوم میں کام کر رہے تھے جس میں ان کے کام کے مٹ جانے کا اندیشہ اور خطرہ تھا کہ بعد میں ان کی قوم ان کے عقائد کا انکار نہ کر دے اور اس بات کو قبول ہی نہ کرے کہ حضرت با وانا تک صاحب لوگوں کے سامنے اسلامی تعلیم پیش کیا کرتے تھے اس لئے با واصا حب نے چولہ بنوایا۔ وہ چولہ انہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کیلئے نہیں بنوایا بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں کیلئے بنایا تھا تا ہمیشہ کیلئے وہ چولہ اس بات پر گواہ رہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور اسلامی تعلیم او وہ چولہ اس بات پر گواہ رہے کہ با وا صاحب مسلمان کی اشاعت ہی ان کا کام تھا۔ عربی میں آیات قرآنیہ آپ نے چولہ پراس لئے لکھوائیں تا چول کو اُن کی قوم محفوظ رکھے کیونکہ اگر وہ گور ویکھی میں قرآنی تعلیم کا ترجمہ لکھواتے تو اول تو لوگ خیال گوروکھی کر سکتے تھے کہ یہ ان کے اپنے اقوال ہیں دوسرے اگر کسی کو قرآن کریم کا خیال آجاتا تو شاید چولہ کو چھپا دیتا لیکن اصل آیات کو بوجہ زبان نہ سمجھنے کے سکھوں نے کوئی آسمانی نشان سمجھا اور اسے محفوظ رکھا۔ اور اگر کہا جائے کہ انہوں نے اس چولہ کو پہنا کیوں ، رکھ کیوں نہ چھوڑا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر وہ خالی رکھ ہی چھوڑتے تو ان کی قوم یہ خیال کرتی کہ شاید کسی اور کا چولہ ہوان کے پہننے کی وجہ سے تاریخی شہادت قائم ہو گئی کہ باوانا تک صاحب اسی چولہ کو پہنتے تھے اور ان کو پسند تھا۔ غرض چولہ پر اصل عربی آیات ہونے کی وجہ سے سکھوں میں سے کسی کو اس کے تباہ کرنے کا خیال نہ آیا یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ آ گیا اور آپ نے اس چولہ سے فائدہ