خطبات محمود (جلد 17) — Page 649
خطبات محمود ۶۴۹ سال ۱۹۳۶ کے سامنے یہ بات نئی نئی آئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مامور کو نئے سرے سے دنیا کی ہدایت کیلئے بھیجا ہے ایمان ایک شاندار مظاہرہ کر رہا تھا اور منافق بہت ہی کم تھے میں نے کہا ہے کہ بہت ہی کم تھے لیکن یہ نہیں کہا کہ بالکل ہی نہ تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود لکھا ہے کہ اُس زمانہ میں بھی بعض کمزور طبائع کے لوگ تھے۔موجودہ زمانہ میں چونکہ بعض سارے کے سارے خاندان احمدی ہو چکے ہیں، ان کے ساتھ بعض ان کے رشتہ دار بھی لگے بندھے اور ان کی دیکھا دیکھی احمدی ہو گئے ہیں ، پھر نئے نئے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کی تربیت کی طرف ان کے والدین کوئی توجہ نہیں کرتے اور وہ صرف اس وجہ سے احمدی ہیں کہ ان کے ماں باپ احمدی تھے ورنہ وہ سوچ سمجھ کر تحقیق کر کے جماعت احمدیہ میں شامل نہیں ہوئے۔پھر یوں بھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں وضاحت فرمائی ہے جب جماعتیں ترقی کرتی ہیں تو بعض دفعہ قربانیوں کے مطالبہ میں زیادتی کی وجہ سے کمزور لوگوں میں منافقت پیدا ہونے لگ جاتی ہے۔ابتدائی زمانہ میں تو صرف یہی قربانی ہوتی ہے کہ بیعت کرلی اور دین کی راہ میں مالی قربانی پیش کر دی یا وہ قربانی پیش کر دی جو دشمن زبر دستی حاصل کرتا ہے مگر جماعت کی رقی کے بعد سینکڑوں قسم کی قربانیوں کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے، کچھ تمدنی ہوتی ہیں، کچھ اقتصادی، کچھ علمی ، کچھ نفسی ، کچھ اخلاقی ، کچھ سیاسی ، کچھ اہلی جو بعض لوگوں کو ناگوار گزرتی ہیں اور اس وجہ سے نفاق کا مادہ ان میں پیدا ہونے اور نشو ونما پانے لگتا ہے پس اسی سنت کے مطابق اب اُس وقت کی نسبت منافق زیادہ ہیں اور اس لئے تعداد کی زیادتی کے باوجود ہمارے لئے وہ امن نہیں ہے جو اُس وقت تھا۔غرض آج ہمیں خطرہ اس طرف سے نہیں ہے کہ ہماری تعداد پہلے سے کم ہوگئی ہے بلکہ خطرہ اس امر سے ہے کہ اب منافق پہلے کی نسبت زیادہ ہیں ورنہ آج اگر جماعت آدھی یا چوتھائی حصہ رہ جائے لیکن ساتھ ہی منافقوں کی نسبت موجودہ نسبت سے کم ہو جائے تو ہماری طاقت زیادہ ہو جائے گی کم نہ ہوگی بلکہ میں تو بارہا غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر ہماری تعداد سو گنا کم ہو جائے اور منافق بالکل نکل جائیں تو ہماری طاقت موجودہ طاقت سے سو گنا زیادہ ہو جائے گی۔منافق ایک طرف تو پوشیدہ رہتا ہے اور دوسری طرف نَحْنُ مُصْلِحُونَ اے کا نعره