خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 620

خطبات محمود ۶۲۰ سال ۱۹۳۶ کے ممبروں کو دیکھ دیکھ کر میرے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی۔ایک دفعہ یہاں غیر احمد یوں کا جلسہ ہوا انہوں نے بڑا مجمع کیا۔ہماری تعداد اُس وقت تھوڑی تھی اور ہمیں اُن کی طرف سے خطرہ تھا ہم نے بھی اس کے مقابلہ میں اپنا انتظام کیا اور پہرے دار لگا دئیے جو اِدھر اُدھر چکر کاٹتے تھے۔یہاں ایک بابا جیٹھ ہوتے ہیں ان کی عادت ہے کہ مجلس میں بیٹھے بیٹھے زور سے ان کی بیٹھ کی آواز نکل جاتی ہے وہ پہلے کسی زمانہ میں ذکر الہی کرتے رہے ہیں اور ذکر الہی کی اسی عادت کی وجہ سے اب ان کے سینہ سے بعض دفعہ بے اختیار ہیھ کی آواز زور سے نکل جاتی ہے اور بعض دفعہ اس زور سے نکلتی ہے کہ کئی لوگ اسے سن کر کانپ جاتے ہیں۔جلسہ کے دن عصر کے بعد میں نماز پڑھا کر گول کمرہ میں جہاں منتظمین کا دفتر تھا مشورہ کیلئے گیا۔وہاں میں اور درد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب بیٹھے تھے میرالڑ کا مبارک اُس وقت کوئی ساڑھے سات سال کا تھا وہ بھی وہاں تھا اور بھی کئی لڑکے ہم نے وہاں کھڑے کئے ہوئے تھے تاکہ بوقت ضرورت ادھر اُدھر پیغام پہنچائیں۔میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ وہ بابا صاحب جن کا نام ہی لوگوں نے بابا ہیٹھ رکھ دیا ہوا ہے مسجد سے اُترتے ہوئے بیتاب ہو گئے اور انہوں نے زور سے بیٹھ کی آواز نکالی جسے سن کر کئی لوگ کانپ گئے ان کی اس آواز کوسن کر میرا لڑکا مبارک احمد دوسرے لڑکوں کے پاس گیا اور انہیں ایک قطار میں کھڑا کر کے کہنے لگا تم سپاہیوں کی طرح کھڑے ہو جاؤ پھر نہایت سنجیدگی سے کہنے لگا کہ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی اور وہ یہ ہے کہ سپاہیوں کو افسر قطار میں کھڑا کر دیتے ہیں اور پھر حکم دیتے ہیں اٹینشن ! اور وہ اس حکم کو سن کر بالکل چست ہو کر ساکت کھڑے ہو جاتے ہیں۔اب ایسے موقع پر جبکہ افسر فوج کو کھڑا کر کے اٹینشن کا حکم دے رہا ہو اور یہ باباجی وہاں آکر بیٹھ کر دیں تو بجائے پچست ہو کر کھڑے ہونے کے سب سپاہی کانپ جائیں گے اور صفیں خراب ہو جائیں گی۔پس اس بیٹھ کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آتا۔یہ لطیفہ آج مجھے بار بار یاد آتا ہے کور کے ممبر اٹینشن ہو کر کھڑے ہیں مگر سروں پر تماشہ رکھا ہوا ہے یہ بات فی الواقعہ وقار کے خلاف ہے لیکن اس موقع پر میں یہ بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ وقار کی بھی تشریح کر دوں کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ وقار کے لفظ کے رُعب سے کئی دوست سچی خدمت سے محروم نہ ہو جائیں لیکن چونکہ اب عصر کا وقت قریب آ رہا ہے اس لئے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں میں اس مضمون کو بیان کروں گا اور اس پر