خطبات محمود (جلد 17) — Page 619
خطبات محمود ۶۱۹ سال ۱۹۳۶ اگر کسی نے اس نیت سے اُسے ٹوپی پہنائی ہے کہ پکڑ اوہ جائے گا اور میں گھر میں بیٹھا رہوں گا تو وہ کی نہایت پاجی ، نہایت خبیث اور نہایت نالائق انسان ہے لیکن اگر کسی نے تمسخر کے ساتھ اس کے سر پر ٹوپی رکھ دی ہے تب بھی میں اسے کہوں گا کہ تو نے بڑی نادانی کی۔دینی معاملات میں تمسخر جائز نہیں ہوتا لیکن اگر یہ اعتراض کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس قسم کے فقرات کے نتیجہ میں قانونی رنگ میں کوئی الزام عائد ہو سکتا ہے تو وہ بھی غلطی کرتا ہے۔نیشنل لیگ نے مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کے متعلق حکومت کو بار بار توجہ دلائی ، ہائی کورٹ نے اس فیصلہ کو رڈ کیا لیکن وہ فیصلہ آج تک شائع ہوتا ہے اور اس سے روکا نہیں جاتا بلکہ حکومت نے نیشنل لیگ کے صدر کو صاف کہا ہے کہ ہم نے قانونی مشورہ لیا ہے ہم اس کی اشاعت کو روک نہیں سکتے۔پس اگر مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی اشاعت کو گورنمنٹ روک نہیں سکتی تو مسٹر کولڈ سٹریم کے فیصلہ کو وہ کس طرح روک سکتی ہے اور اس کے فقرات کے استعمال کو وہ قانونی رنگ میں کس طرح زیر الزام لاسکتی ہے۔پس بے شک اس فیصلہ کو چھتوں پر لکھ لیا جائے اس میں کوئی حرج نہیں پس اس دوست کو تسلی رکھنی چاہئے کہ میاں شمس الدین جیل میں نہیں جائے گا بلکہ وہیں بیٹھا ر ہے گا۔باقی رہا یہ کہ نیشنل لیگ کا یہ فعل وقار کے خلاف ہے ایک حد تک میں بھی اس سے متفق ہوں۔آج ہی راستہ میں میں نے بہت سے والنٹیئروں کو سروں پر کاغذ کی ٹوپیاں پہنے دیکھا ہے اور اب بھی میرے سامنے اس قسم کی ٹوپیاں پہنے ہوئے والٹیئر بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے تو ان کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گو یا بھان متی کا تماشہ ہے بھلا اس قسم کے تماشہ سے کیا بن سکتا ہے۔اس فیصلہ کے متعلق بتانا تو ایک ہندو کو ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور ہائی کورٹ اس فیصلہ کو رڈ کر چکی ہے ، اس فیصلہ کے متعلق بتا نا تو ایک سکھ کو ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور ہائی کورٹ کا ایک حج اس فیصلہ کو رد کر چکا ہے، اس فیصلہ کے متعلق بتا نا تو ایک عیسائی کو ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے اور مسٹر کھوسلہ سے بھی بڑا حج کی اس فیصلہ کو باطل کر چکا ہے، مگر کاغذ کی ٹوپیاں پہنے ہوئے نوجوان بیٹھے یا کھڑے میرے سامنے ہیں گویا مجھے بھی اس بات میں شبہ ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے یا صحیح۔اور لطیفہ یہ ہے کہ کور کے ممبر وردیاں پہنے اور ہاتھ میں ڈنڈے لئے کھڑے ہیں لیکن سر پر کاغذ کی ٹوپیاں رکھی ہیں۔مجھے اس پر ایک لطیفہ یاد آ گیا اور جب میں خطبہ پڑھانے آ رہا تھا تو اُس وقت بھی اس لطیفہ کا تصور کر کے اور کور